رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے بیل آؤٹ پیکج سے روکنے کا مطالبہ


آئی ایم ایف کا لوگو، فائل فوٹو

امریکی کانگریس کے تین بااثر ارکان ٹیڈ ایس یوہو، ایمی بیرا اور جارج ہولڈنگ نے پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کو دیے جانے والے آئی ایم ایف کے ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کی مخالفت کرے، کیوں کہ یہ رقم چین کے سی پیک کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال ہو سکتی ہے۔

سیکرٹری خزانہ سٹیو منوچن اور سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کو لکھے گئے اس خط میں امریکہ کی دونوں سیاسی پارٹیوں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سے تعلق رکھنے والے ان تین ارکان نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں شدید خدشات ہیں کہ آئندہ دنوں میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دیا جانے والا ممکنہ بیل آؤٹ پیکج، سی پیک کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔

اپنے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ ‘‘ہم یہ خط اس گہرے اندیشے کے پیش نظر لکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینے کی کوشش کر رہی ہے جو انفراسٹرکچر پراجیکٹس پر لیے گئے چین کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔’’

ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان میں سی پیک کے تحت 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جب کہ ‘‘ان قرٖضوں کی ادائیگی اور ان منصوبوں سے منافع کے حصول کے طریقہ کار کو پوشیدہ رکھا گیا ہے، جس پر پاکستان کے اندر سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔’’

خط میں کہا گیا ہے کہ ‘‘ اگر قرضوں کے شکنجے میں پھنسانے والی چین کی پالیسی کو دیکھا جائے تو سری لنکا ہمبنٹوٹوا پورٹ ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے لیا گیا قرضہ ادا کرنے سے قاصر تھا۔’’

اور پھر جب سری لنکا پر چین کی طرف سے شدید دباؤ آیا تو اسے یہ بندرگاہ چین کے حوالے کرنا پڑی۔ امریکی کانگریس کے ان تین ارکان نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان میں بھی چین کے قرضوں کے پیش نظر اس نوعیت کے خطرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے سی پیک پراجیکٹس میں شفافیت لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنے خط میں کہا ہے کہ جب تک بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط سخت،اور اس کی چھان بین نہیں کی جائے گی، اسلام آباد اس پیکیج کو چین سے لیے گئے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان پچھلے 30 برسوں میں ایک درجن مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضے لے چکا ہے مگر ابھی تک اصلاحات لانے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ‘‘ادائیگیوں کے توازن، شدید مالی خسارے اور قرضوں کے حجم کے مسائل کو ٹھیک کیے اور شفافیت لائے بغیر ایسا کوئی بھی بیل آؤٹ پیکیج دوبارہ ناکام ہو جائے گا، بلکہ وہ چین کے مفاد میں جائے گا۔’’

تین ارکان کانگریس کے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ امریکہ، ناقابل برداشت قرضوں کے ذریعے دیگر ممالک کو یرغمال بنانے کی چین کی پالیسی کی مخالفت کرے تاکہ خطے میں امریکہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔

یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر امریکہ میں آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے بات چیت کے لیے امریکہ آ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کے ایک سابق عہدیدار، ڈاکٹر زبیر اقبال کہتے ہیں کہ ویسے تو آئی ایم ایف ایک خود مختار ادارہ ہے لیکن سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہونے کے ناطے، امریکہ ائی ایم ایف کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف سے بار بار امریکہ کے اس مطالبے کے بارے میں ڈاکٹر اقبال کہتےہیں کہ اس کا تعلق امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے ہے تاکہ چین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

ڈاکٹر سحر خان کی نظر میں چین کا پاکستان کو قرضے دینے پر امریکہ کی تشویش بجا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ چین کا پاکستان سمیت دیگر ممالک کو قرض دینے کا مقصد دنیا کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا اور اپنے معاشی اہداف حاصل کرنا ہے۔

امریکہ میں ورماؤنٹ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر عاصم ضیا کہتے ہیں کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ سے قطہ نظر، امریکہ میں پائی جانے والی تشویش کی وجہ یہ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان نے معاشی صورت حال درست کرنے کے لئے ان بنیادی اصلاحات پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا جا سکا، جس کا وہ ماضی میں آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیتے وقت وعدے کرتا رہا ہے۔

پاکستان سے ایک ماپر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ ایسے میں جب پاکستان کہہ چکا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ان کی تمام شرائط طے ہو چکی ہیں امریکی کانگرس مین کے اس خط کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ تاہم ان کی نظر میں اس خط کا پاکستان پر نفسیاتی دباؤ ضرور پڑے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG