رسائی کے لنکس

logo-print

ڈرون حملے موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں


جان مکین خطاب کرتے ہوئے

سینیٹرجان مکین نے کہا ہے کہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے عسکریت پسندوں کے خلاف میزائل حملے امریکی حکمت عملی میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہورہے ہیں

امریکی کانگریس کے ایک چار رکنی وفد کے سربراہ جان مکین نے پاکستانی قیادت کے ساتھ بات چیت کے بعد جمعہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون نامی بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے عسکریت پسندوں کے خلاف میزائل حملے امریکی حکمت عملی میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کو پاکستان کے منتقل کرنے کے صدر آصف علی زرداری کے تازہ مطالبے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سینیٹر مکین نے اعتراف کیا کہ اس معاملے پر دونوں ملکوں میں عدم اتفاق ہے جسے بات چیت کے ذریعے دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جمعرات کی شب صدر زرداری سے ملاقات کے دوران پاکستانی رہنما نے امریکی وفد کے اراکین کو بتایا تھا کہ ان کے ملک کی سرزمین پر ڈرون میزائل حملوں کی وجہ سے ملک کی خود مختاری اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے امریکی وفد کے ارکان سے کہا کہ وہ واپس جا کر اپنے ملک کے پالیسی سازوں پر زور دیں کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں کی ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کی جائے تاکہ اس کی اپنی افواج اسے عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کرکے ملک کی خودمختاری کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کو روک سکیں۔

پاکستانی عہدے داروں کا ماننا ہے کہ امریکی میزائل حملوں سے ملک میں امریکہ مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ ان حملوں میں عسکریت پسندوں کے ساتھ بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت ہے۔ تاہم سینیٹرمیکن نے کہا کہ امریکہ کو جب بھی ایسا حملہ کرنا پڑا ہے اس بات کو ہر حال میں یقینی بنایا جاتا ہے کہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے اور ان کے بقول ڈرون میزائل حملوں کے بارے میں فیصلہ سازی کے عمل میں حالیہ دنوں میں بہتری آئی ہے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے امریکی شہریوں کو ویزوں کے اجرا ء میں دشواریوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سینیٹرمکین نے کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں ضروری اور اہل عملہ ہونا ضروری ہے تاکہ امریکہ کے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے پاکستان دی جانے والی مالی امداد کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔ اُنھوں نے اس توقع کا اظہاربھی کیا جلد یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔

امریکی وفد نے صدر زرداری کے علاوہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے امریکی سینیٹروں سے ملاقات میں امریکہ کے ہوائی اڈوں پر پاکستانیوں کی سخت تلاشی کے فیصلے پر تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے اسے ایک امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستانیوں میں بے چینی کا باعث بنتے ہیں اور ان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بھی تلخی پیدا ہوتی ہے اس لیے اُنھوں امریکی اراکین سینٹ سے کہا کہ وہ اپنی اس پالیسی پر جلد نظر ثانی کر کے پاکستانی شہریوں کو ان ملکوں کی فہرست سے نکال دے جن کے رہائشیوں کی ہوائی اڈوں پر سخت چیکنگ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG