رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان امریکہ اور چین دونوں ہی سے قریبی تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے'


پاکستانی سفیر

واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور چین دونوں ممالک سے قریبی اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک آن لائن مباحثے میں شریک پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ تاریخی اعتبار سے پاکستان کے ان دونوں بڑے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

امریکی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے چیرمین اور میزبان پروفیسر ڈاکٹر اکبر احمد نے ان سے پوچھا کہ پاکستان ان دو بڑی طاقتوں سے اپنے دو طرفہ تعلقات میں کیسے توازن رکھ سکے گا، تو پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ کام بخوبی انجام دے رہا ہے اور اس نے ہمیشہ ان دونوں ممالک سے قریبی تعلقات قائم رکھے ہے۔

امریکہ سے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے اسد مجید خان نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاو سے پہلے چھ ماہ کے قلیل عرصے میں تین ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ہر ملاقات، بقول ان کے ''پہلے سے زیادہ خوشگوار رہی''۔ انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماوں کی بات چیت کے نتیجے میں، پاکستان امریکہ تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ، پاکستان ایک اہم ملک ہے اور وہ نہیں چاہے گا کہ اسے بیجنگ، نئی دہلی یا کابل کے تناظر میں ہی دیکھا جائے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا ایک بڑا ملک ہے، ساتھ ہی وہ ایک ایٹمی طاقت بھی ہے؛ جب کہ پاکستان اور امریکہ کی باہمی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ نے باہمی تعاون کے ذریعے امن اور سلامتی کے حصول کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، دونوں ممالک کے پاس کسی اور ملک پر انحصار کیے بغیر آپس میں تعاون کی ایک مضبوط بنیاد موجود ہے''۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں گفت و شنید کے ذریعے ہی تنازعِ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد کہا تھا کہ اگر بھارت امن کی جانب ایک قدم اٹھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔ لیکن، بقول ان کے، بھارت کی موجودہ حکومت نے پاکستان کی اس پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا ہے۔

ان کے الفاظ میں، نئی دہلی کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر، جہاں ایک سال سے لاک ڈاون جاری ہے، اب کشیدگی کا ایک 'فلیش پوائنٹ' بن گیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے، اسد خان نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی سکھ برادری کے لئے کرتارپور راہداری کھولی اور افغانستان اور بھارت کے مابین اشیاٗ کی تجارت کے لئے اپنی سر زمین سے گزرنے والی تجارتی راہداری کھولنے کی اجازت دی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن دونوں ملکوں کو باہمی طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی مغربی سرحد کا ذکر کرتے ہوئے سفیر اسد خان نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی اور اب امریکہ اور طالبان میں طے پا جانے والے معاہدے کے بعد افغانستان میں اندرونی ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

سفیر نے مزید کہا کہ ''ہم افغانستان میں امن عمل کی حمایت جاری رکھیں گے اور ہمیں امید ہے کہ امن عمل کا جلد ہی آغاز ہو جائے گا''۔ انھوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ افغانستان کی سرحد کو محفوظ بنا لیا جائے گا۔

ادھر جنوبی ایشیا پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق، پاکستانی سفیر نے امریکہ اور چین کے متعلق اسلام آباد کی پالیسی کا اعادہ کیا ہے جو کہ اس کے اپنے مفادات میں بنائی گئی ہے۔ لیکن، ماہرین کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے لیے بھارت کو دنیا کے سامنے ایک خطرناک ملک کے طور پر پیش کرنا انتہائی دشوار ہوگا۔

واشنگٹن میں قائم ووڈروولسن سینٹر سے وابستہ جنوبی ایشیائی تعلقات کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا ہے کہ اسلام اْباد اپنی پالیسی کو دنیا کے سامنے جس بیانیے کے ذریعے پیش کرتا ہے اس کے دو حصے ہیں۔ ایک تو اسلام آباد دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ پاکسان ایک ذمہ دار ملک ہے جو امریکہ اور چین دونوں سے مل کر عالمی مسائل پر کام کرنا چاہتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، کوگل مین نے کہا کہ ''اس موقف میں کچھ غلط نہیں کہ پاکستان واقعی امریکہ اور چین سے قریبی اور دیرپا تعلقات چاہتا ہے، اگرچہ آجکل پاکستان کے چین سے تعلقات امریکہ کے مقابلے میں کہیں گہرے ہیں''۔

لیکن، اسلام آباد کی پالیسی کا دوسرا حصہ جس کے مطابق، پاکستان دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ بھارت ایک غیر ذمہ دار ملک ہے۔ ایک مشکل کام ہے، کیونکہ بین الاقوامی برادری کو اس بات پر قائل کرنا کہ بھارت ایک خطرناک ملک ہے جسے لگام دینے کی ضرورت ہے، ایک بہت ہی کٹھن معاملہ ہے''۔

کوگل مین نے کہا کہ دنیا کے دارالحکومت پاکستان کی بھارت کے خلاف شکایات کو دوغلاپن کہیں گے، کیونکہ، بقول ان کے، پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے ایسے جنگجووں سے گہرے تعلقات رکھے ہیں جو بھارت اور افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG