رسائی کے لنکس

logo-print

پاک امریکہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز یکم جون سے ہوگا


یہ بات چیت پاک امریکہ اسٹرٹجک ڈائلاگ کا حصہ ہے، جس میں معشیت و تجارت، توانائی، انسداد دہشت گردی، نفاذ قانون، دفاع، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور ایٹمی عدم پھیلاؤ پہ چھ ورکنگ گروپ ہوں گے۔ اِن مذاکرات میں، توقع ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ مرکزی نکتہ ہوگا

پاک امریکہ اسٹریٹجک ڈائلاگ کا آغاز یکم جون کو واشنگٹن میں ہوگا، جس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے سکریٹری خارجہ، اعزاز احمد کی سربراہی میں پاکستانی وفد ہفتے کو امریکہ پہنچ رہا ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے دورے کی تفیصلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری اسٹریٹجک پارنٹرشپ کا حصہ ہے، جس کے تحت باقائدگی سے مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

سکریٹری خارجہ کے علاوہ، پاکستان وفد میں وزارت خارجہ کی اسٹرٹیجک پلان ڈویژن کے اعلی حکام بھی شامل ہوں گے۔

اسٹریٹجک ڈائلاگ میں امریکی وفد کی قیادت، معاون امریکی وزیر برائے آرمز کنڑول اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی، روز ایلن گوٹ مولر کریں گی۔

پاکستانی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ’جامع ڈائلاگ ہوگا اور دونوں ممالک آرمز کنڑول اور بین الااقوامی سیکورٹی کے حوالے سے اپنے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کریں گے۔‘

یہ بات چیت پاک امریکہ اسٹرٹجک ڈائلاگ کا حصہ ہے، جس میں معشیت، تجارت، انرجی، انسداد دہشت گردی، قانون کا نفاذ، دفاع، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جوہری عدم پھیلاؤ پہ چھ ورکنگ گروپ کا حصہ ہوں گے۔ مذاکرات میں توقع ہے کہ ’ایٹمی عدم پھیلاؤ مرکزی نکتہ ہوگا‘۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ ڈائلاگ معطل ہوگیا تھا۔ لیکن، گزشتہ دو برسوں سے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور پاکستان نے ایٹمی اثاثے کے تحفظ اور اس کے عدم پھیلاؤ کے لئے جو ٹھوس اقدامات کئے ہیں اس میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بہتر ہوئی ہے۔

گزشتہ دنوں، امریکی ترجمان نے روزانہ پریس بریفنگ میں سعودی عرب کو ایٹمی اسلحہ دینے سے متعلق اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے امریکہ کو کوئی تشویش لاحق نہیں۔

XS
SM
MD
LG