رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے قبل پاک امریکہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی


US Pakistan

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد معطل کرنے کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ درست نہیں ہے کیونکہ یہ رقم پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُٹھنے والے اُن اخراجات پر مبنی تھی جو امریکہ کی طرف سے واجب الادا تھے۔

شاہ محمود قریشی کے اس بیان سے ایک روز قبل پینٹاگون نے کہا تھا کہ وہ یہ امداد معطل کر رہا ہے کیونکہ پاکستان ملک کے اندر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف مناسب حد تک کارروائی نہیں کر رہا ہے۔

تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ امریکی امداد کی معطلی نہیں ہے کیونکہ یہ امدا د نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی اپنی رقم ہے جو پاکستان نے خطے میں سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے خرچ کی تھی اور معاہدے کے تحت امریکہ کو یہ رقم واپس کرنا تھی۔

پینٹاگون کی طرف سے یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے محض دو روز قبل کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کے ہمراہ امریکہ کے چیئرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی بدھ کے روز پاکستان آ رہے ہیں۔ پاکستان کے دورے کے بعد وہ بھارت جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ امریکہ کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہو گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دورے کے حوالے سے کہا کہ پینٹاگون کے مذکورہ بیان سے اس دورے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے، 5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ پاکستان تشریف لائیں گے۔ ان کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے۔ باہمی دلچسپی کے امور کو سامنے رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے اور امریکا کا موقف سن کر پاکستان کا موقف سامنے رکھیں گے۔

30 کروڑ ڈالر کی یہ رقم امریکہ کو کوالیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے ادا کرنی تھی ۔ یہ فنڈ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کی خاطر قائم کیا گیا تھا۔

ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امداد دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر منسوخ کی گئی تاہم اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرلے اور دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کا پھر سے آغاز کرے تو امدادبحال کی جا سکتی ہے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے روکی جانے والی اب تک کی امداد میں کٹوتی کی مجموعی مالیت 800 ملین ڈالرز ہو گئی ہے۔

افغانستان میں جلال آباد قونصل خانہ بند کرنے کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہر بات کو سازش کے طور پر نہیں لینا چاہیے، اور اسے بند کرنے کا اقدام سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹھایا۔ ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔

چند روز قبل صحافیوں سے ملاقات کے دوران فرانسیسی صدر کے فون آنے اور وزیراعظم کے اس وقت بات کرنے سے انکار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مصروفیت کے باعث فرانسیسی صدر کی فون کال ریسیو نہ کرسکے۔ دو طرفہ بات چیت کے بعد پیر کے روز دوبارہ ٹیلی فون کال پر اتفاق ہوا ہے۔

جی ایچ کیو میں نئی حکومت کے اہم وزرا اور وزیراعظم کو بریفنگ کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی بے پناہ قربانیاں ہیں۔ وفاقی کابینہ کو جی ایچ کیو میں بہت اچھے ماحول میں بریفنگ دی گئی اور یہ ملاقات ملکی مفاد میں ہے جس میں ہمیں داخلہ و خارجہ امور اور آئندہ کی حکمت عملی پر بریف کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG