رسائی کے لنکس

'شمالی کوریا سے متعلق امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا'


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے معاملے پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

یہ بات انھوں نے جنوبی کوریا کے صدر مون جا ان کے ہمراہ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

روز گارڈن میں گفتگو کے دوران ٹرمپ نے پیانگ یانگ کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خلاف "جواب" دینے کا عزم ظاہر کیا۔

"شمالی کوریا کی حکومت سے متعلق اسٹریٹیجک صبروتحمل کا دور ناکام ہوگیا۔۔۔وہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔"

ٹرمپ اور مون کے درمیان اس بارے میں اختلاف پایا جاتا رہا ہے کہ شمالی کوریا کو اس کے ہتھیاروں کے پروگرام ترک کرنے کے لیے کس حد تک دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔ لیکن جمعہ کو دونوں راہنما شمال کے معاملے پر متفق نظر آئے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی
جنوبی کوریا کے صدر مون نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی

مقررہ وقت سے تیس منٹ زائد تک دونوں صدور کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہا جس میں مون نے ٹرمپ کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دفاعی امور سے لے کر شمالی کوریا کے معاملے پر "وسیع تر اتفاق" قائم کرنے کے قابل ہوئے۔

مون کا کہنا تھا کہ "شمالی کوریا کا جوہری معاملہ ناکامی کے بغیر ہر صورت حل ہونا چاہیے۔ شمالی کوریا کو اس ضمن میں کسی بھی طرح امریکہ اور جنوبی کوریا کے عزم کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔"

مون شمالی کوریا پر "تعزیرات اور مذاکرات" کے ذریعے آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں جب کہ ٹرمپ کی توجہ پیانگ یانگ پر مزید دباؤ بڑھانے پر ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "امریکہ خطے کی دیگر قوتوں اور ذمہ دار ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی حکومت کو بہتر راستہ چننے پر مجبور کرنے کے لیے اس پر پابندیوں کے ضمن میں ہمارا ساتھ دیں، یہ جلد کیا جائے۔"

یہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ ایک ارب پتی کاروباری شخصیت رہ چکے ہیں اور مون جو کہ اسنانی حقوق کے ایک آزاد خیال وکیل ہیں کے درمیان پہلی ملاقات تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG