رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: انتہا پسند عیسائى ملیشیا پر پولیس پر حملوں کی سازش کا الزام


ملزموں میں گروپ کا سرغنہ ڈیوڈ برائین سٹون، اُس کی بیوی اور دو بیٹے بھی شامل ہیں۔

امریکہ کے وفاقی وکلائے استغاثہ نے کہا ہے کہ ایک عیسائى ملیشیا کے نو ارکان پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے ہیں کہ انہوں نے پولیس افسروں کو ہلاک کرنے اور نفاذِ قانون کے ذمے دار مزید لوگوں کو ہلاک کرنے کے مقصد سے کسی جنازے پر بم پھینکنے کی سازش کی تھی۔

پیر کے روز اس اعلان سے پہلے امریکی ریاستوں انڈیانا، مِشی گن اور اوہایو میں پولیس نے چھاپے مار کر نو میں سے آٹھ افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ نَویں مشتبہ شخص کو تلاش کررہے ہیں۔

پیر کے روز جن عدالتی دستاویزات کو کھولا گیا ہے ، اُن میں کہا گیا ہے کہ نو افراد پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، اُن میں باغیانہ سازش اور وسیع تباہی لانے والا کوئى ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کے الزامات شامل ہیں۔

باضابطہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ حکومت کے خلاف ہے اور امریکہ کے خلاف کوئى جنگ شروع کرنا چاہتا تھا۔

امریکہ کی اٹارنی باربرا میک کوَیڈ نے کہا ہے کہ ہُوٹاری کے نام سے معروف اس گروپ نے اپریل میں حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ عام لوگ اور نفاذِ قانون کے ذمےّدار حکام خطرے میں تھے اس لیے گروپ کے خلاف یہ کارروائى کی گئى ہے۔

ڈیٹرائیٹ میں ایف بی آئى کے دفتر کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ واقعہ اس چیز کی ایک مثال ہے کہ تشدّد پر آمادہ انتہا پسندگروپ پورے معاشرے میں مل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹے چھوٹے الگ تھلگ گروپ خاص طور پر بےگناہ شہریوں اور نفاذِ قانون کے ذمّے دار افسروں کو ہدف بناتے ہیں۔

ملزموں میں گروپ کا سرغنہ ڈیوڈ برائین سٹون، اُس کی بیوی اور دو بیٹے بھی شامل ہیں۔

اسی دوران عراق کے انصاف و احتساب کمیشن نے کہا ہے کہ اُس نے سابق لیڈر صدام حسین کی خلافِ قانون بعث پارٹی کے ساتھ رابطے رکھنے کی بنا پر چھ ایسے اُمیدواروں پر پابندی عائد کردی ہے جو اس ماہ کے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کمیشن کے ڈائریکٹر علی اللّامی نے ان چھ افراد یا ان کی پارٹیوں کے نام نہیں بتا ئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اُن کے نام نظرِ ثانی کے لیے ایک عدالتی کمیٹی کو فراہم کردیے جائیں گے۔

کمیشن کے اس فیصلے سے سات مارچ کے الیکشن کے نتائج کے بارے میں کوئى غیر یقینی صورتِ پیدا ہوسکتی ہے۔جمعے کے روز الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی کے زیرِ قیادت اتحاد نے پارلیمنٹ میں موجودہ وزیرِ اعظم نوری المالکی کے زیرِ قیادت شیعہ پارٹیوں کے اتحاد کے مقابلے دو نشستیں زیادہ حاصل کی ہیں۔جنوری میں الیکشن کمیشن نےبعث پارٹی کے ساتھ مبیّنہ رابطوں کی بنا پر تقریباً 500 اُمیدوار وں کو الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔تاہم بعد میں اپیلوں کی بنیاد پرکئى اُمیدواروں پر عائد ختم کردی گئى تھی۔

XS
SM
MD
LG