رسائی کے لنکس

logo-print

جان کا نذرانہ دینے والے پولیس اہل کاروں کے اعداد میں اضافہ


مسٹر اوباما نے کہا کہ ’آپ نے جس پیشے کا انتخاب کیا ہے، ہم اُس سے وابستہ مشکلات اور خطروں کو یکسر دور نہیں کر سکتے۔ لیکن، آپ کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے، ہم ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کرتے ہیں‘

امریکی صدر براک اوباما نے اُن پولیس اہل کاروں کی خدمات کو سراہا اور اُن کی یاد میں تمغے عطا کیے جنھوں نے خدمات بجا لاتے ہوئے جان دی۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون کا نفاذ کرنے والے ایسے اہل کاروں کو ہمیشہ ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اُنھوں نے شجاعت کی تاریخ رقم کی ہے۔

جمعے کو ایوان نمائندگان کی عمارت کے وسیع میدان میں قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے کہا کہ ’آپ نے جس پیشے کا انتخاب کیا ہے، ہم اُس سے وابستہ مشکلات اور خطروں کو یکسر دور نہیں کر سکتے۔ لیکن، آپ کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے، ہم ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کرتے ہیں‘۔
صدر اوباما نے یہ کلمات ’پیس آفیسرز میموریل ڈے‘ سے خطاب میں کہے، جو ہفتہٴقومی پولیس کے سلسلے میں منعقد کیا گیا، جس سالانہ تقریب میں قانون کا نفاذ کرنے والوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں پر اُنھیں خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے اہل کاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد، صدر نے اس تعزیتی تقریب میں شریک اہل خانہ اور احباب کا خیرمقدم کیا۔

مسٹر اوباما کے کلمات ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی ہلاکتوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ آ چکا ہے۔

سنہ 2013میں، امریکہ میں اپنی خدمات کی بجا آوری کے دوران، قانون کا نفاذ کرنے والے 27 اہل کار ہلاک ہوئے۔ لیکن، یہ تعداد سنہ 1980 کے مقابلے میں کم ہے۔ لیکن پچھلے سال، ان اعداد میں دوگنا اضافہ آیا، جب جان دینے والے پولیس اہل کاروں کی سالانہ تعداد 51 تھی۔ یہ بات ’فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)‘ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتائی گئی ہے۔

بِل جانسن، ’نیشنل ایسو سی ایشن آف پولیس آرگنائزیشنز‘ کے انتظامی سربراہ ہیں۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ سنہ 2013 اور 2014 کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں 89 فی صد اضافہ، اُن کی تنظیم کے لیے ’شدید تشویش‘ کا باعث ہے۔

تنظیم کے ارکان کی تعداد دو لاکھ 40 ہزار ہے، جس میں ملک بھر میں پولیس کے تمام عہدوں پر فائز اہل کار آ جاتے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہ اضافہ قتل عمد، گھات لگا کر گولی مارنے کے واقعات میں اضافے کے باعث سامنے آیا ہے۔ یہ واقعات ٹریفک کو روکنے کے مرحلے پر سامنے آتے ہیں جب پولیس ڈرائیوروں کو رکنے کا کہتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ’قتلِ عمد کا معاملہ ہے‘۔

XS
SM
MD
LG