رسائی کے لنکس

logo-print

فرگوسن پولیس کے خلاف الزامات، وفاقی چھان بین کا فیصلہ


اٹارنی جنرل ایرک، ہولڈر نے جمعرات کو بتایا کہ چھان بین کی ضرورت اُن الزامات کے نتیجے میں سامنے آئی جن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی پولیس سیاہ فام مکینوں کے خلاف باقاعدہ امتیاز برت رہی ہے

شہری حقوق کی شقوں کے تحت، امریکی محکمہٴانصاف نے مِزوری کے وسط مغربی شہر، فرگوسن کےمحکمہٴ پولیس کے خلاف تفتیش کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ ماہ، فرگوسن میں ایک پولیس اہل کار نے سڑک پر ہونے والے مقالبے کے دوران، ایک سفید فام پولیس اہل کار نے ایک غیر مسلح سیاہ فام نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے جمعرات کو بتایا کہ چھان بین کی ضرورت اُن الزامات کے نتیجے میں سامنے آئی جن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی پولیس سیاہ فام مکینوں کے خلاف باقاعدہ امتیاز برت رہی ہے۔

ہولڈر کے بقول، ہم نے یہ طے کیا ہے کہ فرگوسن پولیس اہل کاروں پر لگنے والے الزامات کی چھان بین ضروری ہوگئی ہے آیا ایسی باتیں سرزد تو نہیں ہورہی ہیں، جو امریکی آئین یا وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ تفتیش میں پولیس کی طرف سے لوگوں کو روکنے، شدید طاقت کے استعمال اور زیر حراست افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کا جائزہ لیا جانا شامل ہے۔

فرگوسن کے مکینوں نے نو اگست ہو ہونے والے مہلک واقعے پر، جس میں فرگوسن کے پولیس اہل کار ڈیرن ولسن نے 18 برس کے مائیکل براؤں کو گولی مار کر ہلاک کیا، اپنے تشویش کا اظہار کیا تھا۔


ہلاکت کے اس واقعے کی ایک علیحدہ وفاقی تفتیش ’تیزی سے جاری‘ ہے۔

ولسن نے براؤن اور اُن کے دوست کو اُس وقت روکا جب وہ سڑک کے وسط سے گزر رہے تھے۔ پولیس اہل کاروں کا کہنا ہے کہ براؤن نے ولسن کو زدو کوب کیا اور عہدے دار سے بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ ․

تاہم، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ براؤن کو متعدد گولیاں لگیں، جب کہ اُنھوں نے ہاتھ اُٹھا رکھے تھے، اور وہ خود کو پولیس اہل کار کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ ایک مقامی ’گرانڈ جیوری‘ اس بات کا فیصلہ کرے گا آیا ولسین کے خلاف فوجداری مقدمات کے تحت فرد جرم عائد کی جائے۔


شوٹنگ کے اِس واقعے کے بعد، فرگوسن میں جذبات بھڑک اٹھے تھے اور کئی روز تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

XS
SM
MD
LG