رسائی کے لنکس

logo-print

پولینڈ: امریکی اسلحہ، فوجی تعیناتی پر بات چیت


یہ حکمت عملی کسی امکانی روسی جارحیت کے مقابلے کے لیے مشرقی یورپ اور بلقان کی ریاستوں میں امریکی موجودگی کو یقینی بنانے کا ایک حصہ ہے

پولینڈ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جن میں پولینڈ کی حدود کے اندر مستقل طور پر امریکی فوجی اسلحہ و سامان ذخیرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ حکمت عملی کسی امکانی روسی جارحیت کے مقابلے کے لیے مشرقی یورپ اور بلقان کی ریاستوں میں امریکی موجودگی کو یقینی بنانے کا ایک حصہ ہے۔

پولینڈ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس منصوبے کی رو سے جنگی ٹیکوں اور دیگر ہتھیاروں کو پولینڈ میں رکھنے کی اجازت ہوگی۔

وزیر دفاع ٹوماس سائیمونیک نے کہا ہے کہ اِس ضمن میں اُنھوں نے گذشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی فوجی اہل کاروں سے بات کی تھی اور اُنھیں یقین دلایا گیا تھا کہ اس معاملے پر بہت جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

وارسا کی وزارت دفاع کے الفاظ میں، پولینڈ اور اس علاقے میں امریکی موجودگی میں اضافے کے حوالے سے یہ ایک مزید اقدام ہے۔

اگر امریکی وزیر دفاع ایش کارٹن اور صدر براک اوباما اِس کی منظوری دیتے ہیں، تو امریکہ بلغاریہ، ایسٹونیا، لَٹویا، لتھوانا، رومانیہ، پولینڈ اور ممکنہ طور پر ہنگری کے سارے ملکوں میں لڑاکا گاڑیوں کا ذخیرہ رکھا جائے گا اور 5000 فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ یہ ممالک کسی وقت سویت حلقہ اثر میں تھے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد، پہلی مرتبہ امریکہ اس خطے میں اس سطح پر اپنی فوجی موجودگی کو یقینی بنائے گا۔ یہ نیٹو فوجی اتحاد کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، جس کے تحت، روسی مداخلت کے کسی خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر تعینات کے قابل ایک خصوصی فورس موجود ہو گی۔

اس سلسلے میں، یوکرین کے جزیرہ کرائیمیا کو ضم کرنے کی مثال نظروں کے سامنے ہے۔

نئے اقدام سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ مشرقی یورپ میں امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے اقدام کرے گا۔

XS
SM
MD
LG