رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے میزائل پروگرام پر نئی پابندیوں کی تیاری: امریکی حکام


ایران نے خبردار کیا ہے کہ نئی پابندیاں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے منافی ہوں گی۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ کچھ ایرانی افراد اور کمپنیوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ خبر دینے والے امریکی روزنامے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ ایران، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ بارہ افراد اور کمپنیوں پر پابندیوں کا باضابطہ اعلان اس ہفتے متوقع ہے۔

جرنل کے مطابق پابندیوں میں امریکی بنکوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر دیں اور امریکی کمپنیوں اور افراد کو ان سے کاروبار کرنے سے منع کیا جائے گا۔

ایران نے اکتوبر اور نومبر میں میزائلوں کے تجربات کیے تھے۔ امریکہ اور فرانس نے کہا تھا کہ اکتوبر میں کیا جانے والا تجربہ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی خلاف ورزی کرتا ہے جس میں ایران پر بیلسٹک میزائل کی تیاری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی صرف ان میزائلوں سے متعلق تھی جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے میزائلوں میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں۔

امریکہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میزائلوں کا واحد مقصد جوہری ہتھیاروں کی ترسیل ہے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’ہم کچھ وقت سے ایران کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے خدشات کی بنا پر اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف مزید کارروائی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں میں اکتوبر میں اس کا دسواں تجربہ بھی شامل ہے۔‘‘

ایران نے خبردار کیا ہے کہ نئی پابندیاں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے منافی ہوں گی۔

اس معاہدے کے تحت ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کر رہا ہے جس کے عوض اسے ان پابندیوں سے نجات دی جائے گی جن سے اس کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔

یہ پابندیاں اس وقت اٹھائی جائیں گی جب اقوام متحدہ کا جوہری نگرانی کا ادارہ اس بات کی تصدیق کر دے گا کہ ایران نے ضروری اقدامات کیے ہیں جن میں یورینیئم افژودہ کرنے والے فعال سنٹری فیوجز کی تعداد اور افژودہ یورینیئم کے ذخیرے کو کم کرنا شامل ہے۔

ایران طویل عرصہ تک اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے کوئی فوجی مقاصد بھی ہیں۔

بدھ کو امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے گزشتہ ہفتے عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں موجود امریکہ کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب ’’انتہائی اشتعال انگریز‘‘ میزائل تجربہ کیا تھا۔

امریکہ کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو داغا گیا میزائل امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین‘ کے قریب 1,500 میٹر کی حد کے اندر سے گزرا۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کی بحریہ نے میزائل داغنے سے ایک گھنٹے سے کم وقت قبل ایک ریڈیو اعلان کیا تھا کہ علاقے میں موجود جہاز میزائل کے راستے سے ہٹ جائیں۔

علاقے میں دیگر کئی بحری جہاز موجود تھے جن میں جنگی جہاز یو ایس ایس بکلے، ایک فرانسیسی جنگی جہاز اور تجارتی جہاز شامل ہیں۔

تاہم کوئی میزائل ان جہازوں پر نہیں داغا کیا اور انہیں اپنی حفاظت کے لیے کسی اقدام کی ضرورت نہیں پڑی۔

XS
SM
MD
LG