رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کی طرف سے نوعمر افراد کے لیے قید تنہائی پر پابندی عائد


فائل فوٹو

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ نوعمر قیدیوں اور جیلوں کے اندر معمولی جرائم میں ملوث افراد کے لیے قید تنہائی کو ختم کرنے سے دس ہزار افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے وفاقی جیلوں کے نظام میں اصلاحات جاری کی ہیں جس میں 18 سال سے کم عمر کے قیدیوں کے لیے قید تنہائی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ بالغوں کے لیے بھی اس کے استعمال کو محدود کر دیا گیا ہے۔

پیر کو روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اوباما نے کہا کہ امریکہ میں اس وقت ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد قید تنہائی میں ہیں اور اس کے ’’تباہ کن اور دیرپا نفسیاتی نتائج‘‘ برآمد ہوتے ہیں۔

’’امریکہ دوسرا موقع دینے والی قوم ہے مگر قید تنہائی کا تجربہ اس دوسرے موقعے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جو رہائی پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ ملازمتیں کرنے، خاندان کے افراد میں گھلنے ملنے اور معاشرے کا فعال رکن بننے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔‘‘

امریکہ میں لگ بھگ دو لاکھ وفاقی جیلیں ہیں۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ نوعمر قیدیوں اور جیلوں کے اندر معمولی جرائم میں ملوث افراد کے لیے قید تنہائی کو ختم کرنے سے دس ہزار افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

تاہم بیورو آف پرزنز کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے صرف 26 افراد 18 سال سے کم عمر کے ہیں۔

جولائی میں صدر نے قید تنہائی کا ازسرنو جائزہ لینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد محکمہ انصاف نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے صدر نے یہ حکم جاری کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’’کئی مرتبہ جیل حکام کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوتا کہ وہ کچھ قیدیوں کو باقی قیدیوں سے علیحدہ کر دیں، اس وقت جب قیدیوں، عملے اور عوام کے تحفظ کا یہ واحد راستہ ہو مگر ایک پالیسی کے طور پر ہمارا خیال ہے کہ اس ضابطہ عمل کو شاذ و نادر استعمال کیا جانا چاہیئے، اس کا اطلاق منصفانہ ہونا چاہیئے اور اس پر مناسب رکاوٹ ہونی چاہیئے۔‘‘

رپورٹ میں تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قیدیوں کو ’’کم سے کم ضروری پابندی کے ماحول‘‘ میں رکھنے اور انہیں کم پابندی کرنے والے ماحول میں واپس لانے کے واضح منصوبے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عملہ اس بات کی وضاحت کر سکنے کے قابل ہونا چاہیئے کہ کسی قیدی کو کیوں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG