رسائی کے لنکس

ٹرمپ اور پیوٹن کی امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت پر بات چیت


امریکی صدر ٹرمپ کی روسی صدر پوٹن سے ہنوئی میں ملاقات

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدر پوٹن نے ایک بار پھر اُن سے کہا ہے کہ اُنہوں نے امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی تھی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’جب وہ یہ بات کہتے ہیں تو درست ہی کہتے ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن نے ویت نام میں ہونے والی مختصر ملاقات میں شام کے حوالے سے ایک بیان دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شام کے مسئلے کا واحد حل سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی ممکن ہے کیونکہ اس سے بے شمار لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہو جائیں گی۔

یہ دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان جولائی کے بعد سے پہلی ملاقات ہے جو ایسے وقت ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ کو ان الزامات کا سامنا ہے کہ امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کے باعث وہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی سے روانہ ہوتے ہوئے اپنے جہاز ایئر فورس ون میں ذرائع ابلاغ کے نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت مختصر ملاقات تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں صدور کے درمیان یہ رابطہ بہت گرمجوشی سے ہوا باوجود اس کے کہ دونوں راہنما ایک دوسرے کو اچھی طرح سے نہیں جانتے۔

ملاقات کے بعد روسی صدر پوٹن نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک اچھے شخص ہیں اور اُن سے باآسانی بات ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہم ایک دوسرے کو زیادہ نہیں جانتے لیکن امریکی صدر بہت مہذب اور ملنسار ہیں۔ ہم میں معمول کی بات چیت ہوئی لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس وقت زیادہ نہیں تھا۔‘‘

صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس اپنی صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ یہ اچھا ہو گا اگر امریکہ اور روس دنیا کو درپیش مسائل کے بارے میں مل کر کام کر سکیں۔ تاہم صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے صدر پوٹن سے اُن کا رابطہ کم ہی رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدر پوٹن نے ایک بار پھر اُن سے کہا ہے کہ اُنہوں نے امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی تھی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’جب وہ یہ بات کہتے ہیں تو درست ہی کہتے ہوں گے۔ اُنہیں اس حوالے سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہمارے ملک کیلئے یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘‘

تاہم اس بارے میں امریکہ میں تحقیقات جاری ہیں اور صدر ٹرمپ کے سابق کیمپین منیجر پال مینافورٹ اور اُن کے نائب رِک گیٹس پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

روسی صدر نے اس تاثر کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے کہ روس نے سیاسی نوعیت کے اشتہارات کے ذریعے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی تھی۔ تاہم فیس بک سمیت سوشل میڈیا کے دوسرے اداروں نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب کے وقت روس کی طرف سے خریدے گئے کچھ اشتہارات اُن کے پلیٹ فامرز پر شائع ہوئے تھے۔

لیکن روسی صدر پوٹن نے کہا ہے، ’’انتخابی مہم کے دوران ذرائع ابلاغ میں روسی مداخلت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘

پوٹن نے کہا کہ ویت نام میں شیڈولنگ اور پروٹوکول سے متعلقہ مسائل کی وجہ سے دونوں صدور کے درمیان جامع بات چیت ممکن نہیں ہو پائی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اُن کی صدر پوٹن سے دو یا تین مرتبہ مختصر بات چیت ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG