رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اخبارات سے: شام سے تشدد بند کرنے کا مطالبہ


اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یہ از بس ضروری ہے کہ جِس قدر جلد ممکن ہو جینیوا میں ایک امن کانفرنس منعقد کی جائے

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک ماہ قبل یہ تعداد 93000تھی۔

’ہیوسٹن کرانیکل‘ اخبار کے مطابق، بان کی مون نے شام کی حکومت اور حزب اختلاف دونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈھائی سال سے جاری تشدد کو بند کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ از بس ضروری ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو جینیوا میں ایک امن کانفرنس منعقد کی جائے۔ سکریٹری جنرل نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے دیا۔

مسٹر کیری نے بھی بان کی مون سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ شام کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور قیادت کا تقاضہ ہے کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ اور روس اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر جینیوا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ایک سال قبل وہاں ایک عبوری حکومت کے قیام کی جو تجویز مانی گئی تھی اُس پر اتفاق رائے کی کوشش کی جائے۔

امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے بھگوڑے ملازم ایڈورڈ سنوڈن کے بارے میں تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ وہ ابھی تک ماسکو کے ہوائی اڈے پر پھنسا ہوا ہے اور یہ کہ اسے اب تک وہاں سے نکلنے کے لیے مطلوب سفری دستاویزات نہیں ملی ہیں۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے بقول، عام حالات میں یہ دستاویزیں ملنےمیں تین ماہ تک لگ جاتے ہیں، لیکن اُس کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ کاغذات اُسے کسی بھی وقت مل سکتے ہیں۔

سنوڈن نے روس میں عارضی سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے تاکہ بعد میں وہ یہ طے کرسکے کہ وہ لاطینی امریکہ میں کس ملک میں بحفاظت پہنچ سکےگا۔ اُسے ونزویلا، نکراگوا اور بولویا پناہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

اُدھر روسی صدر ولادی میر پوٹن نے وہائٹ ہاؤس کی یہ درخواست مسترد کردی ہے کہ سنوڈن کو روس سے نکال دیا جائے۔

مسٹر پوٹن کہہ چکے ہیں کہ سنوڈن کا روس میں اس شرط پر قیال ممکن ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے پرہیز کرے۔

ادھر سنوڈن کے وکیل کا کہنا ہے کہ پورے روس میں سنوڈن کو رہنے کے لیے جگہ اور مالی امداد کی پیش کش کی جارہی ہے، حتیٰ کہ شادی تک کی بھی پیش کش کی جارہی ہے۔

توانائی کے استعمال میں چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب وہ دنیا کا توانائی استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ یہ ایک ایسا سنگِ میل ہے جس سے چین کی بے تحاشہ معاشی پیش رفت اور ایک عظیم صنعتی دیو کی حیثیت سے اس کے بڑھتے ہوئے وقار کا اندازہ ہوتا ہے۔

پیرس میں قائم بین الاقوامی توانائی کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال چین نے سوا دو ارب ٹن سے زیادہ تیل استعمال کیا جو امریکہ میں خرچ ہونے والے تیل کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے۔ دس سال قبل چین میں تیل کی کھپت امریکہ کے مقابلے میں آدھی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ چین کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات امریکی خارجہ پالیسی کے لیے نئے چیلنج پیدا کریں گی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اُن کوششوں کے لیے بھی، جِن کا مقصد گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں تخفیف لانا ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی عالمی حرارت پر قابو پایا جائے اور چین کی قومی تیل کمپنی ایران میں تیل اور گیس کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، باوجودیکہ امریکہ تہران حکومت کے خلاف تعزیرات نافذ کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے۔

چین اس پر بھی تیار نہیں ہے کہ وہ تیل اور کوئلے کے بڑھتے ہوئے استعمال کی کوئی حد مقرر کرے اور کاربن ڈائیکسائڈ کے اخراج کو کم کرے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس کی وجہ سے صدر براک اوباما کی پچھلے سال دسمبر میں موسم سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدہ کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ نے 16سائنس دانوں کا ایک بیان بھی چھاپا ہے جنھوں نے کہا ہے کہ عالمی حرارت پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ کہ دنیا کو کاربن ڈائکسائڈ سے پاک کرنے کے لیے فوری قدم اُٹھانے کے لیے کوئی سائنسی وجوہات نہیں ہیں۔ اِن میں نوبیل انعام یافتہ ماہرِ طبیعات اِوار گائیور بھی شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG