رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اخبارات سے: جنوبی کوریا کا مصنوعی سیارچہ


اخبار کہتا ہے، کہ جنوبی کوریا اس سے پہلے دو مرتبہ خلائی جہاز مدار میں بھیجنے میں ناکام ہوا تھا۔ نومبر میں ایک تیسری کوشش ایک ٹیکنکل مُشکل کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑی تھی۔

جنوبی کوریا نے جو مصنوعی سیارچہ خلاء میں کامیابی کے ساتھ چھوڑا ہے، اُس پر ’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ اس ملک کو جزیرہ نما کوریا میں خلائی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ تھا۔ اور دسمبر میں اس کے کمیونسٹ حریف شمالی کوریا کے ایک مصنوعی سیارچے کے خلاء میں جانے کے بعد اُس پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ اورجنوبی کوریا نے جنوب مغربی ساحل سے ایک راکٹ کے ذریعے یہ سیارچہ مدار میں بھیجا۔

اخبار کہتا ہے، کہ جنوبی کوریا اس سے پہلے دو مرتبہ خلائی جہاز مدار میں بھیجنے میں ناکام ہوا تھا۔ نومبر میں ایک تیسری کوشش ایک ٹیکنکل مُشکل کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑی تھی۔ اخبار کہتا ہے کہ یہ ناکامیاں جنوبی کوریا کے لئے خاص طور پر اس وجہ سے سُبکی کا باعث تھیں کیونکہ شمالی کوریا نے، جس کی معیشت جنوبی کوریا کی معیشت کے بارہویں حصّے سے بھی کم ہے، ایک راکٹ کامیابی کے ساتھ بارہ دسمبر کو مدار میں چھوڑا تھا۔ جس کی بین الاقوامی برادری نے مذمّت کی تھی۔ اور کہا تھا کہ اصل میں یہ بلسٹک مزائیل ٹیکنالوجی کا تجربہ تھا۔ جنوبی کوریا کے خلائی تحقیقی ادارے کے ایک سائینس دان نے کہا تھا کہ دونوں تجربوں میں مماثلت نہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ جنوبی کوریا نے اپنا خلائی پروگرام روسی ٹیکنالوجی کی مدد سے شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے یہ ملک بارہ سیارچے خلاء میں بھیج چُکا ہے، لیکن وہ سمندر ملکوں میں غیر ملکی راکیٹوں کی مدد سے بھیجے گئے تھے۔ اب اپنے ہی راکٹ اور اپنی سرزمین سے سیارچہ مدار میں بھیج کر جنوبی کوریا ایسا معرکہ سر کرنے والا 13 ہواں ملک بن گیا ہے۔

ایک اور شُعبہ جس میں جنوبی کوریا نے بڑا نام کمایا ہے، الیکٹرانکس کا ہے۔ اور وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اُس کی سیم سنگ کمپنی نے اپنی انجنئیرنگ اور مارکیٹنگ کی صلاحیت کے طفیل ایک ایسا سمارٹ فون بنایا ہے جو ایپل کمپنی کے آئی فون کے مقابلے کا فون ہے۔

اسرائیل کے تازہ انتخابات کے نتائج پر ’پِٹس برگ گزٹ‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ جہاں تک علاقائی امن کا تعلّق ہے، اُس کے امکانات ان کی وجہ سے نہیں بڑھے۔ خاص طور پر ایک ایسے امن کے جو اسرائیلی فلسطینی مکالمے کی پیداوار ہو۔

اخبار نے خاص طور پر اس طرف توجّہ دلائی ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے یہ بات بالکل نہیں چُھپائی کہ اُن کی ہمدردیاں صدر اوبامہ کے ری پبلکن حریف مِٹ رامنی کے ساتھ ہیں، اور یہ حقیقت حالات میں مدد گار نہیں ثابت ہو سکتی۔ اگرچہ صدر اوبامہ پر یہ لازم ہے کہ امن کے مفاد میں وہ اپنی دوسری میعاد صدارت میں اس مسئلے پر توجّہ دیں۔ مسٹر اوبامہ کے نئے وزیر ِخارجہ جان کیری کے ایجنڈے میں مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات سر فہرست ہونے چاہیئں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ مزید بگڑ جائے گا۔

امریکہ میں امی گریشن کے قوانین میں اصلاح کرنے کی ضرورت پر جو بحث آج کل جاری ہے۔ اُس پر ’یو ایس اے ٹوڈے‘ ایک اداریئے میں لکھتا ہے کہ سالہا سال تک اصلاح کی یہ کوششیں اب تک اس وجہ سے اس گُتھی کو سُلجھانے میں ناکام رہی ہیں۔ کہ ملک میں جو ایک کروڑ دس لاکھ تارکین وطن اس وقت غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ اُن کا مسئلہ اس طرح حل کیا جائے کہ ایک تو قانون کی بالادستی کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور دوسرے ایسا کرنے سے غیر قانونی تارکین وطن کی ایک کروڑ دس لاکھ افراد کی ایک نئی کھیپ نہ کھڑی ہو جائے، موجودہ ایک کروڑ دس لاکھ تارکین وطن اس شرط پر یہاں رہ سکتے ہیں، کہ وہ اپنے آپ کو رجسٹر کرائیں اپنے کوائف کی جانچ کرائیں، جُرمانہ ادا کریں اور جو ٹیکس ا ُن پر واجب ہیں، اُنہیں ادا کریں۔

اخبار کہتا ہے کہ ان لوگوں کو، جو چوری چھپے رہتے ہیں قانونی درجہ ادا کرنے کا جواز یہ ہے کہ اس سے فوائد بر آمد ہونگے، اس کی بدولت لیبر مارکیٹ اور امریکی قومی معاشرے میں ان لوگوں کی وُہ وسیع معیشت مُدغم ہو جائے گی، جو اس وقت انڈر گراؤنڈ ہے۔ لیکن اسے اُن لوگوں کو جلد شہریت عطا کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے جو اس ملک میں غیر قانونی ذرائع سے وارد ہوئے ہیں یا ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد واپس نہیں گئے۔ کیونکہ یہ اُن لوگوں کے مُنہ پر ایک بڑا طمانچہ ہوگا، جنہوں نے ضوابط پر عمل درآمد کیا۔
XS
SM
MD
LG