رسائی کے لنکس

'صحت پر حملے'، امریکہ کا کیوبا میں سفارتی عملہ کم کرنے کا اعلان


ہوانا میں واقع امریکی سفارتخانہ

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کیوبا سے اپنے تمام غیر ضروری سفارتی عملے کو واپس بلا رہا ہے جس کی وجہ ہوانا میں 21 امریکی سفارتی اہلکاروں کی "صحت پر ہونے والے حملے" بتائے جاتے ہیں۔

وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار رکھے ہوئے ہے لیکن وہ امریکی سفارتکاروں کی صحت و سلامتی کو مقدم رکھتا ہے۔

"جب تک کیوبا کی حکومت ملک میں ہمارے سفارتکاروں کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکتا، ہمارے سفارتخانے میں صرف انتہائی ضروری عملہ ہی کام کرے گا اور خطرات کے پیش نظر عملے کو کم کیا جا رہا ہے۔"

وزیر خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ امریکی سفارتکاروں پر ہونے والے حملے کی نوعیت مبہم ہے۔

"متاثرہ لوگوں کو مختلف جسمانی علامات اور مسائل درپیش ہیں جن میں کان میں تکلیف، سماعت کے مسائل، غنودگی، سر میں درد، نیند میں مشکلات شامل ہیں۔ تفتیش کار اس کی وجوہات اور اس کے ذمے داروں کا تعین کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔"

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو میں اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "کیوبا میں کچھ برا ہوا ہے۔"

محکمہ خارجہ کے سینیئر عہدیدارون کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے شہریوں کو بھی کیوبا کے سفر سے متعلق انتباہ جاری کر رہا ہے کیونکہ سفارتی اہلکاروں پر ایسے کچھ "حملے" ہوٹلوں میں ہوئے جب کہ بعض سفارتی رہائشگاہوں میں پیش آنے کی اطلاع ہے۔

عہدیداروں کا کہنا تھا جب تک کیوبا امریکیوں کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا محکمہ خارجہ کا یہ سفری انتباہ برقرار رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG