رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے خلاف اتحادیوں کو مزید تعاون کرنے کی ضرورت ہے: امریکہ


جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ اس مہم کی کامیابی تمام 65 ملکوں کی طرف سے مشترکہ مفاد میں مل کر کام کرنے میں ہے، " تمام اہم وسائل کے ساتھ۔"

امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شدت پسند گروپ داعش کو تباہ کرنے کی کوششوں کو بڑھائے گا لیکن محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق اس ضمن یورپی شراکت داروں سے درکار اضافی مدد شاید دستیاب نہ ہو سکے۔

محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ داعش کے انسداد کی کوششوں کا بوجھ بالآخر امریکہ پر ہی آئے گا نہ کہ دوسروں پر۔

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے محکمہ خارجہ میں عالمی اتحادیوں کے نمائندوں کے ہونے والے اجلاس میں بھی اس بارے میں ایک واضح پیغام دیا۔

ترجمان محکمہ خارجہ مارک ٹونر کے مطابق "نائب صدر جو بائیڈن نے اس غیر معمولی دہشت گرد خطرے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے امریکہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔"

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ اجلاس میں 65 اتحادیوں میں سے 59 کے نمائندے شریک ہوئے جو کہ حکمت عملی سے متعلق صلاح و مشورہ کے لیے اعلیٰ سفارتکاروں کا پانچوں اجلاس تھا۔

ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ "انسداد داعش کی ہماری مہم میں دو درجن کے لگ بھگ ممالک کی عسکری طور پر شراکت ہے، دیگر 15 مختلف ملک عراق، شام اور دیگر ممالک میں زمینی فوج اور مقامی فورسز کو تربیت فراہم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔"

جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ اس مہم کی کامیابی تمام 65 ملکوں کی طرف سے مشترکہ مفاد میں مل کر کام کرنے میں ہے، " تمام اہم وسائل کے ساتھ۔"

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کے مطابق "ہم اپنے تمام اتحادیوں سے مذاکرات کر رہے ہیں، اس ضمن میں مزید تعاون درکار ہے۔"

XS
SM
MD
LG