رسائی کے لنکس

logo-print

ایبولا کے وبائی صورت اختیار کرنے کا امکان نہیں، وہائٹ ہاؤس


جوش ارنسٹ نے کہا کہ افریقہ سے روزانہ 150 کے قریب افراد امریکہ آتے ہیں، جنھیں روانگی اور آمد پر تفصیلی اسکریننگ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ ایبولا ایک مہلک بیماری ہےلیکن اس کا امریکہ میں وبا کی صورت اختیار کرنے کا خدشہ "انتہائی کم" ہے۔

تاہم اُنھوں نے کہا کہ ایبولا سے نمٹنے کے لیےطبی قرنطینہ، نگہداشت ، علاج اور انتظامی سطح پر خاطر خواہ انتٕظامات کیے گئے ہیں، اور بقول اُن کے، اِس سلسلے میں ڈر خوف کی کوئی بات نہیں۔

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کے دوران کہی۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ بدھ کو ملک کے طبی اور انتظامی ماہرین نے صدر براک اوباما کو بیماری اور انتظامات سے متعلق ایک تفصیلی بریفنگ دی, اور یہ کہ صدر نے لیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ترجمان نے کہا کہ طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری ہوا، پانی یا کھانے سے ہرگز نہیں پھیلتی، بلکہ ایبولا سے متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبت سے پھیلتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مغربی افریقہ کے تینوں ایبولا زدہ ملکوں سے امریکہ آنے والے تمام مسافروں کی ہوائی اڈوں پر تفصیلی اسکریننگ شروع کی جاچکی ہے، جب کہ اِن ملکوں سے روانگی کے وقت بھی مسافروں کو اسکریننگ کے نظام سے گزرنا پڑتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہلکے بخار کی کیفیت، اِس وائرس کی بنیادی علامات میں سے ایک ہے، جس کی نشاندہی پر متاثرہ شخص کو امریکہ آنے سے روک دیا جاتا ہے؛ اور مزید طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔

جوش ارنسٹ نے کہا کہ افریقہ سے روزانہ 150 کے قریب افراد امریکہ آتے ہیں، جنھیں روانگی اور آمد پر تفصیلی اسکریننگ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

اس سوال پر کہ لا ئبیریا، سیرا لیون اور گِنی کے ممالک سے فضائی پروازوں کی آمد و رفت پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی، ترجمان نے کہا کہ ایسا کرنا، کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔

اِس کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایسا کرنے سے لوگ بکھر جائیں گے، اورمتبادل ذریعوں سے امریکہ آنے کی کوشش کریں گے۔ اور، ایسی صورت میں اُن کی آمد و رفت پر نگاہ رکھنا ممکن اور مؤثر نہیں رہے گا۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ ایبولا کا مرض چھ ماہ سے موجودتھا، لیکن اِن ممالک میں جانے والے صحت کی نگہداشت کےاکا دکا امریکی کارکنوں کے علاوہ کسی اور کو یہ وائرس نہیں لگا۔

ایبولا سے متاثرہ افراد کے لیے قرنطینہ کی مؤثر سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے ایٹلانٹا، نبراسکا اور ڈیلاس میں صحت کی خصوصی تنصیبات کا ذکر کیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ جہاں ضابطوں کی درکار پابندی نہ کرنے کے باعث پہلے ایک دو اموات واقع ہوئی ہیں، وہاں چار پانچ وائرس سے متاثرہ افراد کا کامیابی سے علاج بھی ہوا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’سواٹ‘ نامی ریسپونس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جب کہ واضح ضابطوں کا انتظام کیا گیا ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد ہوگا۔

XS
SM
MD
LG