رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا اظہار تاسف، کئی یورپی ممالک کے سفیر اسرائیل سے واپس


امریکہ نےفلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کے جانے والے ایک بحری قافلے پر پیر کے روز کے اسرائیلی حملے پر دکھ کا اظہارکیاہے۔ اس حملے میں 15 امدادی کارکن ہلاک ہو ئے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس واقعہ سے منسلک حالات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صدر براک اوباما ، جو مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی کوششیں کررہے ہیں ۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم بن یامن نیتن یاہو جو اس وقت کینیڈا میں ہیں اور منگل کو وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما سے ملاقات کرنے والے تھے، اب اپنے دورے کو مختصر کرکے اسرائیل واپس جارہے ہیں۔ صدر اوباما 9 جون کو فلسطینی صدر محمود عباس سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن گی مون نے کہاہے کہ انہیں فلسطینیوں کے لیے امدادی مشن کے خلاف تشدد کی کارروائی پر دھچکہ لگا ہے اور انہوں نے اسرائیل سے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے کے لیے کہا ہے۔

یورپی یونین نے بھی تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے فوری اور غیر مشروط طورپر غزہ کی سرحد کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیر اسرائیلی کارروائی پر گفت گو کے لیے پیرکے روز برسلز میں اجلاس کررہے ہیں۔

عرب لیگ کے سربراہ عمرو موسیٰ نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک جرم قراردیا اور اس 22 رکنی تنظیم کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ، جو طویل عرصے سے اسرائیل پر نکتہ چینی کرتے آرہے ہیں، اسے ایک غیر انسانی کارروائی کانام دیا۔

ترکی اور اردن میں ہزاروں افراد نے اسرائیل کی مذمت کے لیے سڑکوں پر نکل آئے جب کہ اسپین ، یونان اور کئی دوسرے یورپی ملکوں نے اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلالیے۔

XS
SM
MD
LG