رسائی کے لنکس

logo-print

ایوان نمائندگان میں محکموں کی جزوی بحالی کے بلز مسترد


ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے اسے ایسے اغوا کاروں سے تشبیہ دی جو ایک وقت میں ایک مغوی کو رہا کر رہے ہوں۔

امریکی ایوان نمائندگان نے وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے جزوی خاتمے کے لیے پیش کیے گئے تین مختلف مجوزہ اقدامات مسترد کر دیے۔

ریپبلکن کے تجویز کردہ بلز میں نیشنل پارکس اینڈ میوزیم، ویٹرن سروسز فنڈ اور واشنگٹن کے شہری محکموں کو دوبارہ کھولنے کی تجویز تھی لیکن یہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل منظور بھی ہو جاتے تو وہ حکومت کے محکموں کو جزوی طور پر کھولنے کے کسی بھی بل کو ویٹو کر دیتا۔

ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ کچھ محکموں کو بند رکھتے ہوئے چند ایک کو کھولنے کی کوشش رپبلکنز کی طرف سے انتہائی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے بچوں کو خوراک کی فراہمی کے پروگرامز کی بجائے پبلک پارکس پر زیادہ فکر مندی کا اظہار کرنے پر ریپبلکنز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے اسے ایسے اغوا کاروں سے تشبیہ دی جو ایک وقت میں ایک مغوی کو رہا کر رہے ہوں۔

بجٹ میں شامل چند شقوں پر کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکلنز کے مابین عدم اتفاق کے باعث، 17 برس میں پہلی بار پیر اور منگل کو نصف شب حکومت کا ’شٹ ڈاؤن‘ شروع ہوا، جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے باعث ملک کی پہلے سے خراب اقتصادی صورتحال مزید سست روی کا شکار ہو جائے گی۔

صدر اوباما نے منگل کے روز کہا تھا کہ صحت عامہ کا پروگرام جاری رہے گا۔

حکومت کے ہیلتھ کیئر پروگرام کے معاملے پر وفاقی محکموں کے شٹ ڈاؤن پر صدر نے رپبلکنز پر "نظریاتی مہم جوئی" کا الزام لگایا۔

اس شٹ ڈاؤن کی وجہ سے تقریباً وفاقی محکموں کے آٹھ لاکھ ملازمین متاثر ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG