رسائی کے لنکس

logo-print

شام جنگ بندی کو درپیش چیلنج، امریکہ و روس کا مشترکہ بیان


ایک مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ شمالی لذاقیہ اور مشرقی غوطہ میں حکومت شام اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، امریکہ اور روس نے کہا ہے کہ ’’ہمیں اُن مشکلات کا بخوبی ادراک ہے جن سے مخاصمت کی کارروائیاں روکنے کے حوالے سے ملک بھر کے کئی علاقوں کو سامنا ہے‘‘

شام میں کشیدگی کا خاتمہ لانے کے لیے امریکہ اور روس نے مشترکہ کوششیں شروع کردی ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں لڑائی کافی حد تک رُک گئی ہے۔ تاہم، اب بھی چیلنج درپیش ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ شمالی لذاقیہ اور مشرقی غوطہ میں حکومتِ شام اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ وہ دو علاقے ہیں جِن پر اپریل کے اواخر میں امریکہ اور روس کی ثالثی میں مقامی طور پر جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

تاہم، امریکہ اور روس نے کہا ہے کہ ’’ہمیں اُن مشکلات کا بخوبی ادراک ہے جن سے مخاصمت کی کارروائیاں روکنے کے حوالے سے ملک بھر کے کئی علاقوں کو سامنا ہے‘‘۔

شام میں فروری میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے ملے جلے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ زیادہ تر مشکلات حلب کے شہر میں درپیش آرہی ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والی کشیدگی کے واقعات میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکہ اور روس جنگ بندی کی ٹاسک فورس کے شریک سربراہ ہیں جو اس معاہدے پر عمل درآمد کے معاملات اور خلاف ورزیوں پر نظر رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں، روس شامی حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا رہا ہے، جب کہ امریکہ شام کی حزب مخالف پر دباؤ برقرار رکھ رہا ہے، تاکہ سمجھوتے کی پابندی ممکن ہو۔

امریکہ اور روس کا یہ مشترکہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیرس میں فرانس کے وزیر خارجہ ژاں مارک اسیت سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس دوران ہمہ جہت امور پر گفتگو ہوگی، جن میں شام میں امن عمل کا معاملہ بھی شامل ہے۔

کیری اُس اجلاس میں بھی شریک ہوں گے جو فرانسیسی قیادت میں منعقد ہونے والا ہے، جس کا جرمنی، ترکی، قطر اور سعودی عرب حصہ ہیں۔

اس سے قبل، پیر ہی کھ روز، کیری نے اپنے طور پر سعودی وزیر خارجہ عبدل الجبیر سے ملاقات کی جس دوران مختلف امور پر بات چیت کی گئی جن میں شام میں جنگ بندی کی بحالی اور داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف لڑائی شامل ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں، روس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ شام کے حکام کو پابند کرے گا کہ اُن علاقوں کی فضائی حدود کے اوپر پروازیں کم کردے، جہاں شہریوں کی کثیر تعداد آباد ہے یا وہ علاقے جہاں جنگ بندی میں شریک فریق مکین ہیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ خطے کے اتحادیوں کی حمایت اور اعانت بڑھا دے گا، تاکہ اُن کی سرحدوں کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت، اسلحہ یا مالی امداد گھٹائی جائے۔

اِن دِنوں کیری یورپ کے چار روزہ سفارتی دورے پر ہیں جس دوران وہ لندن میں بھی قیام کریں گے، جہاں وہ بدعنوانی کے موضوع پر منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

بدعنوانی کے عنوان پر یہ اجلاس جمعرات کو ہوگا جس کی میزبانی برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کریں گے اور جس میں دیگر ملکوں کے علاوہ افغانستان، کولمبیا اور نائجیریا کے سربراہان ملک شرکت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG