رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور روس تخفیفِ جوہری اسلحہ معاہدے کی توسیع پر رضامند 


امریکہ اور روس نے جوہری تخفیفِ اسلحہ سے متعلق 'نیو اسٹارٹ' معاہدے کی سن 2022 تک توسیع پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

امریکہ اور روس نے منگل کے روز جوہری تخفیفِ اسلحہ پر نئے سمجھوتے کے لیے مذاکرات پر بھی رضامندی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم اس دوران فریقین کے پاس پہلے سے موجود جوہری اسلحہ کو ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر غور کیا جائے گا۔

روس نے تخفیفِ اسلحہ سے متعلق نیو اسٹارٹ نامی معاہدے کی توسیع کی تجویز پیش کی، جس کے جواب میں چند گھنٹوں بعد، امریکی دفترِ خارجہ نے کہا کہ وہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کو آگے بڑھانے کے لیے روس کی آمادگی کو سراہتا ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ فوری طور پر قابلِ تصدیق معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے تیار ہے۔ دفترِ خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ روس اس کے لئے اپنے سفارت کاروں کو بھی مجاز بنائے گا۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی وابستگی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مل کر فروری سن 2022 تک دونوں فریقین کے پاس متعدد نیوکلیئر وار ہیڈز کو منجمد کرنے پر تیار ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس دوران کسی نئے معاہدے پر مذاکرات ہوں گے۔

"دی نیو سٹریٹجک آرمز ری ڈکشن ٹریٹی" نامی معاہدے پر سن 2010 میں دستخط ہوئے تھے، اور یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے پاس موجود سٹریٹیجک جوہری اسلحہ پر حدود لاگو کرتا ہے۔ اس میں پانچ سال کی توسیع کی جا سکتی ہے، اور روس کا کہنا ہے کہ وہ بغیر شرائط کے اس پر تیار ہے۔

اس معاہدے میں ممکنہ توسیع، وہ چاہے ایک سال کی ہو، دونوں ملکوں کے درمیان تخفیف اسلحہ پر موجود دو طرفہ تعلقات میں بہتری لائے گی۔

امریکہ پہلے ہی روس کے ساتھ دیگر تخفیف اسلحہ معاہدوں سے الگ ہو چکا ہے۔ امریکہ روس پرالزام عائد کرتا ہے کہ اس نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ ان معاہدوں سے امریکہ کی نسبت روس کو زیادہ فائدہ پہنچا۔ ان میں سرد جنگ کے زمانے کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلئر فورسز ٹریٹی شامل ہے۔ امریکہ یک طرفہ طور پر اوپن سکائیز نامی معاہدے سے بھی الگ ہو گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG