رسائی کے لنکس

logo-print

روسی و امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات، شام کے بحران پر گفتگو


روس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دمشق حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کے لیے شامی حزبِ اختلاف پر دبائو ڈالے۔

روس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دمشق حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کے لیے شامی حزبِ اختلاف پر دبائو ڈالے۔

روس کی جانب سے یہ مطالبہ وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ منگل کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہونے والی ملاقات میں کیا۔

امریکہ محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کے مطابق دونوں وزارئے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کا بیشتر حصہ شام کی صورتِ حال پر گفتگو میں گزرا۔

ترجمان کےمطابق "انتہائی سنجیدہ اور محنت سے کی جانے والی" گفتگو کے بعد امریکہ اور روس نے شام میں گزشتہ دو برسوں سے جاری بحران کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں روسی وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف کا کہنا تھا کہ نئے امریکی وزیرِ خارجہ شام کے بحران کی سنگینی کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں ددونوں ملکوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان جلد سے جلد مذاکرات شروع کرانے کے لیے ماحول سازگار بنانے کی حتی المقدور کوشش کریں گے۔

سرجئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس چاہتا ہے کہ شامی حزبِ اختلاف اسد حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں کی نامزدگی کا اعلان رواں ہفتے کردے۔

خیال رہے کہ شام کے بحران پر روس اور امریکہ کا موقف بحران کے آغاز سے ہی ایک دوسرے کے متضاد رہا ہے۔

روس شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا قریب ترین اتحادی ہے جو شامی حکومت کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قراردادیں بھی ویٹو کرتا آیا ہے۔

اس کے برعکس امریکہ شامی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حمایت کرتا ہے جو شامی صدر کی اقتدار سے رخصتی چاہتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG