رسائی کے لنکس

روس اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی


روسی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف۔ فائل فوٹو

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق امریکہ کی طرف سے داعش کے خلاف حملوں میں کمی کے نتیجے میں جنگجو عراق سے بھاگ کر دریائے فرات کے مغربی کنارے پر جمع ہو کر اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہے ہیں۔

روس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ کرنے کا محض بہانہ کر رہا ہے اور عراق میں جان بوجھ کر ہوائی حملوں میں کمی کر رہا ہے تاکہ داعش کے جنگجوؤں کو شام میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرتے ہوئے روس کی حمایت یافتہ شامی فوج کی پیش قدمی کو کم کر سکے۔

پینٹاگون نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوجیں ہر روز داعش کی چوکیوں پر حملے کر رہی ہیں اور اس کے نتائج سب دیکھ سکتے ہیں۔

امریکہ اور روس کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی اتحادی فوجوں نے ستمبر کے مہینے میں عراق میں اُس وقت حملوں میں کمی کر د ی تھی جب روس کی فضائیہ کی مدد سے شامی فوجوں نے داعش سے صوبہ دیر الزور واپس لینا شروع کیا تھا۔

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف کے مطابق اس صورت حال کے نتیجے میں داعش کے جنگجو عراق سے بھاگ کر دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع صوبے دیر الزور میں جمع ہو کر اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہے ہیں۔ روسی ترجمان نے کہا ہے کہ پینٹاگون اور اتحادی فوجوں کو اس اقدام کا جواز پیش کرنا ہو گا اور بتانا ہو گا کہ کیا اس کا مقصد شامی فوجوں کے آپریشن کو کمزور کرنا ہے۔

واشنگٹن میں پینٹاگون کے ترجمان کرنل رابرٹ میننگ نے روسی الزامات کو مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ امریکہ داعش کے جنگجوؤں کو ختم کرنے ، اُنہیں محفوظ ٹھکانے حاصل کرنے اور علاقے میں حملے کرنے کی صلاحیت سے محروم رکھنے کے وعدوں کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔

کرنل کوناشینکوف نے مذید کہا کہ شامی فوجیں داعش کو شامی صوبے دی الزور کے جنوب مشرق میں المایادین شہر سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ’غیر ملکی جنگجو‘ روزانہ عراق سے وہاں پہنچ کر اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG