رسائی کے لنکس

logo-print

جیف سیشنز نے روسی سفیر سے ملاقاتوں کے متعلق جھوٹ بولا: رپورٹ


امریکی خفیہ ایجنسیوں نے روسی سفیر سرگی کسلی یک  کی ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران سے  ان ملاقاتوں کے بارے میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت ریکارڈ کی تھی۔

امریکہ میں روسی سفیر سرگی کسلی یک نے ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران کو بتایا ہے کہ اُنہوں نے گزشتہ برس امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے امریکہ کی صدارتی مہم کے دوران مہم سے متعلقہ اُمور کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ روسی سفیر کا یہ بیان اُس بیان سے یکسر مختلف ہے جو اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس بارے میں دیا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے موجودہ اور سابقہ امریکی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے روسی سفیر سرگی کسلی یک کی ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران سے ان ملاقاتوں کے بارے میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت ریکارڈ کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی صبح ایک ٹویٹ کے ذریعے اس انتہائی حساس اور خفیہ خبر کے لیک ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبروں کا لیک ہونا فوراً بند ہونا چاہئیے۔

اس سال فروری میں سیشنز نے اپنی تقرری کے حوالے سے کانگریس میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ اُنہیں گزشتہ برس صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران خارجہ پالیسی کیلئے اُن کی مشیر کی حیثیت سے روسی اہلکاروں سے ہونے والے مبینہ رابطوں کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔

گزشتہ مارچ میں اخباری اطلاعات کے مطابق جیف سیشنز نے کم از کم دو مرتبہ سرگی کسلی یک سے ملاقات کی تھی۔ پہلی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ کے رپبلکن پارٹی کیلئے صدارتی اُمیدوار کی حیثیت سے خارجہ پالیسی پر تقریر سے قبل اپریل 2016 میں ہوئی تھی جبکہ دوسری ملاقات اسی سال جولائی میں رپبلکن پارٹی کے کنونشن کے موقع پر ہوئی تھی۔

اُس وقت سیشنز نے اعتراف کیا تھا کہ روسی سفیر سے اُن کی ملاقات ضرور ہوئی تھی لیکن اس ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ نے ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیشنز نے دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور اس کی تصدیق دیگر شہادتوں سے نہیں ہوتی۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے پوسٹ کو بتایا کہ سیشنز اور روسی سفیر کے درمیان جامع بات چیت ہوئی تھی جس میں روس سے متعلقہ اُمور کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف اور اُن کے صدر بننے کی صورت میں امریکہ روس تعلقات کی نوعیت کے بارے میں گفتگو بھی شامل تھی۔

اخبار نے لکھا ہے کہ موجودہ اور سابق امریکی اہلکاروں کے مطابق ان ملاقاتوں کے بارے میں سیشنز کے بیانات اور روسی سفیر کی ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران سے ہونے والی بات چیت میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔

روسی سفیر امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کی برخواستگی کا باعث بھی بنے تھے۔ مائیکل فلن کو گزشتہ فروری میں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا جب یہ انکشاف ہوا کہ اُنہوں نے روس کے بارے میں امریکی پالیسی سے متعلق بات چیت کی تھی۔ اُنہوں نے اُس وقت بیان دیا تھا کہ روسی سفیر سے اُن کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ تاہم امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے روسی سفیر سے اُن کی بات چیت ریکارڈ کر لی تھی جس افشا ہونے پر اُنہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG