رسائی کے لنکس

logo-print

روس کا متعدد مغربی ملکوں کے ’’غیر دوستانہ سفارت کاروں‘‘ کو نکل جانے کا حکم


ماسکو: آسٹریلیا کے سفیر

مغربی ملکوں سےمشترکہ طور پر روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کے رد عمل میں، روس نے مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے ’’غیر دوستانہ سفارت کاروں‘‘ کی واپسی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

برطانیہ کے سفارتی عملے کو سب سے زیادہ ہدف بنایا گیا ہے، اور برطانوی سفیر سے کہا گیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر وہ اپنے عملے کو اس تعداد کے مساوی کردے جتنے روسی سفارت کار برطانیہ نے ملک بدر کیے ہیں۔

بدلے کا یہ اقدام ایسے میں سامنے آیا ہے جب ایک ہی روز قبل روس نے 60 امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے جب کہ سینٹ پیٹرز برگ کا قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جرمنی، نیدرلینڈز، یوکرین، فرانس، اٹلی، پولینڈ، کروشیا، بیلجئم، سویڈن، آسٹریلیا، کینیڈا اور زیک ریپبلک کے سفیر یا اُن کے معاونین اپنی کاروں میں وسطی ماسکو میں وزارت خارجہ پہنچے۔

میزائل کا تجربہ

دریں اثنا، روس نے جمعے کے روز نئے تشکیل کردہ بین الاقوامی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ یہ بات ملک کی وزارت دفاع نے ایک ٹوئیٹ میں کی ہے۔ ’سرمٹ ‘ کے تجربے کی وڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

تازہ ترین ’آئی سی بی ایم‘ سوویت دور کے میزائل ’ویوووڈا‘ کی جگہ لے گا۔

ملاقاتوں کے بعد، جرمن سفیر، رڈیگر فان فرش نے کہا کہ روس اسکرپال کو زہر دینے کے معاملے پر سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن، مزید کہا کہ جرمنی روس سے مکالمے کے لیے تیار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG