رسائی کے لنکس

logo-print

ابتہاج محمد، اسپورٹس کی دنیا کی امریکی شمشیر زن


30 سالہ ابتہاج محمد 2016ء کے اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں، جو اس سال اگست کے مہینے میں ریو ڈی جینیرو میں ہو رہے ہیں۔

تلوار بازی میں مہارت رکھنے والی خاتون ابتہاج محمد نا صرف امریکہ کی قومی 'فینسنگ ٹیم' کی رکن ہیں۔ بلکہ انھیں تلوار بازی کے بین الاقوامی مقابلوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی نمائندگی کرنے والی واحد مسلمان خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

30 سالہ ابتہاج محمد 2016ء کے اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں،جو اس سال اگست کے مہینے میں ریوڈی جینیرو میں ہو رہے ہیں۔

ابتہاج اگر اولمپک مقابلے میں شرکت کرتی ہیں تو وہ امریکہ کی پہلی مسلمان خاتون بن جائیں گی، جو حجاب پہن کر تلوار بازی کا مقابلہ لڑیں گی۔

یو ایس اے ٹو ڈے سے ایک انٹرویو میں ابتہاج نے بتایا کہ جب بہت سے لوگ ہماری ٹیم کی تصاویر لیتے ہیں تو وہ اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں کہ وہاں میرے جیسے ایک حجاب پہننے والی خاتون بھی کھڑی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ مجھے اپنی سخت محنت، لگن اور برداشت پر مکمل یقین تھا کہ ایک دن میں امریکی قومی ٹیم کا حصہ بن کر اولمپک کے لیے تاریخ رقم کروں گی۔

تین بار آل امریکن چیمپئین رہنے والی ابتہاج نے بتایا کہ فی الحال میری نظر اس سال کی عالمی چیمپئین شپ پر ہے پھر اس کے بعد اولمپک ٹیم کا حصہ بننے پر توجہ مبذول کروں گی۔

بقول ابتہاج مجھے امید ہے کہ ایک عالمی چیمپئین کی حیثیت سے جو عزت اور شہرت مجھے ملی ہے، وہ دوسری لڑکیوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے متاثر کرے گی۔

2005ء کی جونیئر اولمپک چیمپئین ابتہاج تلوار بازی کی ماہر خواتین کی عالمی رینکنگ میں 11 ویں نمبر پر ہیں جبکہ، وہ امریکہ کی قومی فینسنگ ٹیم کی پہلی مسلمان خاتون ہیں۔

افریقی نژاد امریکی تلوار بازی کی ماہر ابتہاج محمد نیو جرسی میں پیدا ہوئی ہیں۔

انھوں نے 13 برس کی عمر میں کولمبیا ہائی اسکول کی فینسنگ ٹیم کی طرف سے کھیلنا شروع کیا اور دو ریاستی چیمپئین شپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کی اس کے بعد 2012ء میں انھوں نے پیٹر ویسٹ بروک فاؤنڈیشن کے ایک پروگرام کے تحت اعلیٰ تربیت حاصل کی۔

تلوار بازی میں مہارت کے لیے دنیا کی بہترین فینسر کا اعزاز حاصل کرنے والی ابتہاج نے ڈیوک یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات اور افریقی امریکی اسٹڈیز میں بیچلرز کی دو ڈگریاں حاصل کی ہیں۔

ابتہاج محمد جب 13 سال کی تھی تو، ان کی ماں نے پہلی بار اس کھیل کو اس وقت دریافت کیا جب انھوں نے ایک ہائی اسکول کے باہر سے گزرتے ہوئے لڑکیوں کو پورے لباس میں فینسنگ یا چھوٹی تلوار سے لڑائی کا کھیل کھیلتے دیکھا تھا۔ اس وقت وہ اس کھیل کا نام نہیں جانتی تھیں لیکن انھیں کھلاڑیوں کے لباس نے بے حد متاثر کیا تھا اور انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ابتہاج سکینڈری اسکول میں فینسنگ ٹیم کا حصہ ضرور بنے گی۔

ابتہاج محمد نے 'ورلڈ فینسنگ چیمپئین شپ' 2014ء میں امریکی قومی ٹیم کی رکن کی حیثیت سے گولڈ میڈل حاصل کیا اور سال 2015ء میں انھوں نے چلی میں ہونے والی 'پین امریکن چیمئین شپ' میں قومی ٹیم کے لیے گولڈ میڈل جیتا ہے۔

ابتہاج محمد فیشن کا اعلیٰ ذوق بھی رکھتی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں خواتین کی فیشن انڈسٹری میں بھی قدم رکھا ہے اور' لوویلا ' کے نام سے لاس اینجلیس میں مسلمان خواتین کے لیے ملبوسات کی ایک رینج متعارف کرائی ہے۔

XS
SM
MD
LG