رسائی کے لنکس

ایران، شمالی کوریا اور روس پر پابندیوں کا بل منظور


ایران کے ایک دور مار میزائل کا تجربہ۔ فائل فوٹو

چند روز پہلے ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے صیاد تھری میزائل کی پیداوار شروع کرکے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ میزائل 120 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کے روز بھاری اکثریت سے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دیا، جو ایک ایسا اقدام ہے جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

اس بل میں صرف ایران کو ہی ہدف نہیں بنایا گیا بلکہ امریکی پابندیاں شمالی کوریا اور روس پر بھی لگائی گئی ہیں۔

نئے بل میں روس پر پابندیوں کو مزید سخت بنایا گیا ہےجس کی وجہ پچھلے سال صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت تھی۔ ایران اور شمالی کوریا پر پابندیاں ان کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات ہیں۔

منگل کے روز تین کے مقابلے میں 419 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرار داد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری حاصل نہیں ہو سکے گی ۔ ان کی انتظامیہ نے کانگریس کو پابندیاں اٹھانے کے سے متعلق صدارتی فیصلے کی مخالفت سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اس کا جواب اپنے میزائل پروگرام میں مزید پیش رفت کی شکل میں دے گا، جسے 2015 کے ایران اور مغربی ملکوں کے درمیان معاہدے، جن میں امریکہ بھی شامل، کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کو ترقی دینے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔

چند روز پہلے ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے صیاد تھری میزائل کی پیداوار شروع کرکے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ میزائل 120 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ میزائل طیارے اور میزائل مار گرانے کی صلاحیت رکھنے والے سام ایس 200 قسم کے میزائل جیسا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG