رسائی کے لنکس

logo-print

حقانی نیٹ ورک، طالبان سے رابطوں کے الزام میں چھ افراد پر پابندی


فائل فوٹو

جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن میں افغانستان میں طالبان کی سابقہ حکومت کے سینئر اراکین شامل ہیں۔

امریکہ نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے مبینہ تعلق پر چھ افراد کو ’بلیک لسٹ‘ کرتے ہوئے اُن پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن میں افغانستان میں طالبان کی سابقہ حکومت کے سینئر اراکین بشمول افغانستان کے مرکزی بینک کے سابق گورنر عبد الصمد ثانی بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ کے سینئر عہدیدار سیگل مینڈکلر نے کہا کہ یہ پابندی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق اُس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت دہشت گردوں کی اعانت کرنے والے افراد کو بے نقاب کرنا امریکہ کی ترجیح ہے۔

جن چھ افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے یا اُنھیں ’بلیک لسٹ‘ قرار دیا گیا ہے وہ امریکہ میں کسی طرح کے اثاثے نہیں خرید سکیں گے اور امریکی شہریوں پر اُن سے کسی بھی قسم کے لین دین پر پابندی ہو گی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی انڈر سیکریٹری برائے انسدادِ دہشت گردی اور انٹیلی جنس سیگل مینڈکلر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پاکستانی حکومت طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کے خاتمے میں ہمارے ساتھ کام کرے اور اُن کے مالی وسائل اکٹھا کرنے کی (صلاحیت) کو مؤثر طور پر نشانہ بنائے۔‘‘

جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اُن میں شامل عبدالقدیر بصیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر پشاور میں مبینہ طور پر طالبان کے فنانس کمیشن کے سربراہ ہیں اور اُنھوں نے طالبان کو صوبہ کنڑ میں حملوں کے لیے ہزاروں ڈالر دیے تھے۔

حافظ محمد پوپلزئی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جنوبی اور مغربی افغانستان میں طالبان کے فنانس کمیشن کے انچارج تھے۔

مولوی عنایت اللہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ طالبان کی پشاور شوریٰ کے رکن اور افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان کے عسکری معاملات کا حصہ ہیں۔

جب کہ فقیر محمد اور گلا خان حامدی کے بارے میں بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیے کام کرتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ ایک روز قبل یعنی جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں پناہ گاہوں سے متعلق الزامات زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔

XS
SM
MD
LG