رسائی کے لنکس

امریکہ کی شامی عہدیداروں پر تعزیرات عائد


فائل فوٹو

امریکی محکمہ خارجہ نے شامی حکومت کے 18 اعلیٰ فوجی عہدیداروں پر بھی تعزیرات عائد کی ہیں جو بشار الاسد حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے معاملے سے منسلک ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر جمعرات کو سرکاری، فوجی اور ایک کمپنی کے 18 عہدیداروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

محکمہ خارجہ نے ٹیکنالوجی انڈسٹریز کی اس تنظیم پر تعزیرات عائد کیں جس پر شام کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس کمپنی کا بنیادی کام شام میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل اور راکٹ کے پروگرام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو درآمد کرنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے شامی حکومت کے 18 اعلیٰ فوجی عہدیداروں پر بھی تعزیرات عائد کی ہیں جو بشار الاسد حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے معاملے سے منسلک ہیں۔

اس کے علاوہ شام کی فوج کے پانچ برانچوں یعنی شعبوں پر پابندی عائد کر دی ہے جن میں سیرئین عرب ائیر فورس، سیرئین عرب ائیر ڈیفنس فورسز، سیرئین عرب آرمی، سیرئین عرب نیوی اور سیرئین عرب ریپبلکن گارڈ شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسد کی فورسز نے دو کیمیائی حملے کیے جن میں کلورین گیس استعمال کی گئی۔ یہ حملے 2013ء میں دمشق کے نواح میں ہونے والے سیرین گیس کے مہلک حملے کے بعد ہوئے اور امریکہ اور مغربی ممالک اس حملے کا الزام اسد کی فورسز پر عائد کرتے ہیں۔

صدر براک اوباما کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ "ہم شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"

"اسد حکومت کی طرف سے کیے جانے والے مسلسل ظالمانہ حملے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور عالمی اصولوں سے انحراف اور دیرینہ عالمی اقدار کی خلاف ورزی کی عکاسی کرتے ہیں۔"

ان تعزیرات کے تحت شامی عہدیداروں اور افراد کے اگر امریکہ میں کوئی اثاثے ہیں تو وہ منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں کے ان کے ساتھ کسی بھی طرح کے لین دین پر پابندی ہو گی۔

شام میں تقریباً چھ سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران ہزراوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG