رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب کے خلاف قانون سازی پر اوباما دستخط نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس


ترجمان نے سعودی عرب کو دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے امریکہ کا ’’اہم پارٹنر‘‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ملک ’’ہر چیز سے اتفاق نہیں کرتے‘‘۔ تاہم، نااتفاقی کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے

ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے مطالبے کے باوجود، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما ایسی کسی قانون سازی پر دستخط نہیں کریں گے جس سے سعودی عرب جیسے ملکوں پر قانونی چارہ جوئی کی اجازت ملتی ہو کہ اُس کے اہل کاروں نے 11 ستمبر 2001ء کے امریکی سرزمین پر دہشت گرد حملوں میں کسی طرح کا کوئی کردار ادا کیا۔

وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری، جوش ارنیسٹ نے پیر کے دِن کہا ہے کہ ’’اقتدار اعلیٰ کے استثنیٰ کے پورے نظریے کو خطرہ لاحق ہے۔ اس سے کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ خود امریکہ کے لیے اہم نتائج برآمد ہو سکتے ہیں‘‘۔

’جسٹس اگینسٹ اسپونسرز آف ٹررزم ایکٹ‘11/9کے اہل خانہ کو یہ اجازت مل جائے گی کہ وہ غیر ملکی ریاستوں اور دہشت گردی کے مالیاتی پارٹنرز پر مقدمات دائر کر سکیں۔

’دِی نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد ایسی کسی قانون سازی کی پڑتال کی سوچ بڑھ گئی ہے، جس میں سعودی عرب کے حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر کانگریس کوئی ایسا اقدام کرتی ہے تو سعودی عرب امریکی اثاثہ جات کے اربوں ڈالر فروخت کردے گا۔

پیر کے روز کی اخباری بریفنگ کے دوران کیے گئے ایک سوال پر، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ قانون سازی کے بارے میں تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس خیال کو ذہن میں لانا مشکل ہوگا کہ جس طرح سے اِس کا مسودہ بنایا جارہا ہے، صدر اوباما اُس پر دستخط کریں گے۔

پریس سکریٹری نے توجہ دلائی کہ ’’اقتدار اعلیٰ کے استثنیٰ کا سوال ایسا ہے جس سے امریکہ کی استعداد کو تحفظ فراہم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ملکوں سے مل کر کام کرے گی۔ اس اصول سے ہٹنے سے امریکہ، ہمارے ٹیکس دہندگان، ہمارے فوجی اور سفارت کاروں کو خطرہ لاحق ہوگا‘‘۔

اس بیان بازی سے ایک ہی روز بعد اوباما جمعرات کو خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب جانے والے ہیں، جس دوران داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف لڑائی، ایران جوہری سمجھوتا اور خطے میں ایران کی عدم استحکام کی کارروائیوں پر بات چیت مرتکز رہنے کی توقع ہے۔

ارنیسٹ نے سعودی عرب کو دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے امریکہ کا ’’اہم پارٹنر‘‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ملک ’’ہر چیز سے اتفاق نہیں کرتے‘‘۔ تاہم، نااتفاقی کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر کے بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے کہ امریکی عدالتیں اثاثہ جات کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کریں، سعودی عرب تقریباً 750 ارب ڈالر کے امریکی اثاثوں کو بیچنے پر مجبور ہوگا۔

ارنیسٹ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’سعودی حکومت تسلیم کرتی ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کی ہموار کارکردگی ہمارے دونوں ملکوں اور ہماری معیشتوں کے لیے سودمند ہے۔ اور اس ضمن میں عدم استحکام، دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG