رسائی کے لنکس

ایران جوہری معاہد ے میں شامل رہنے سے متعلق غورو فکر جاری ہے: ٹلر سن


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن

ٹرمپ انتظامیہ اہم امریکی قانون سازوں کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کر رہی ہے تاکہ قانون سازی سے کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے کہ امریکہ ایران جوہری سمجھوتے میں شامل رہے ۔

یہ بات امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے ایک انٹرویو میں کہی۔

ٹلرسن نے کہا کہ 2015ء میں طے پانے والے معاہدے سے متعلق امریکی قانون میں ترامیم آئندہ ہفتے یا اس کے کچھ دیر بعد ہو سکتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ دنوں میں اس حوالے سے کئی ڈیڈ لائن درپیش ہیں کہ اس سمجھوتے کے ساتھ کیسے پیش رفت کی جا سکتی ہے جسے وہ "بہت ہی خراب اور ایران کے لیے نرم" قرار دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس، محکمہ خارجہ اور کانگرس کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اگرچہ ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا تاہم ٹرمپ اس بات کے متمنی ہیں کہ امریکہ کی طرف سے اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے طریقوں کو مضبوط کیا جاسکے اور شاید صدر کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ امریکہ کے لیے اس میں شامل رہنا اس کے مفاد میں ہے۔

ٹلرسن نے اے پی کو بتایا کہ "صدر نے کہا کہ یا تو اس کو ٹھیک کرنے یا اس منسوخ کر سکتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے ان کے اس (معاہدے) کو ٹھیک کرنے کے ان کے وعدے کو ایفا کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ "

ایک تفصیلی انٹرویو میں ٹلرسن نے ایران میں مظاہرین کی حمایت نا کرنے پر یورپی یونین پر تنقید کی۔ شمالی کوریا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ آئندہ ہفتے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد اس طرح کا اشارہ مل سکے گا کہ کیا پیانگ یانگ وسیع تر معاملات بشمول جوہری ہتھیاروں سے متعلق بات چیت پر تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ایران معاہدے کی پابندی کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر پابندیوں کو ہٹانا ایران کی طرف سے دی جانے والی رعایتوں سے مطابقت نہیں رکھتا ہے اور یہ سمجھوتہ امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔

تاہم ٹرمپ نے یہ پابندیاں مزید تین ماہ کے لیے ختم کر دی تھیں۔ انہوں نےاس بارے میں حتمی فیصلہ کانگرس پر چھوڑ دیا تھا کہ کیا معاہدے کو چھوڑ دینا چاہیے یا اس میں شامل رہنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG