رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: پولیس کو عسکری سازوسامان دینے سے متعلق جائزے کا حکم


7 اگست کے اپنے بیان میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اس عسکری ساز و سامان کی اصل میں ضرورت بھی ہے یا نہیں۔

ریاست میسوری میں تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں امریکی صدر براک اوباما نے ان حکومتی اقدامات کے جائزہ کا حکم دیا کہ جس کے تحت ریاست و مقامی پولیس کو فوجی سازوسامان فراہم کیا جاتا ہے۔

اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا حکومت کو سازوسامان فراہم کرتے رہنا چاہئے اور مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طریقہ کار کے تحت اس اسلحے کو استعمال کریں جس میں خودکار بندوقیں اور بارودی سرنگ سے بچنے کی گاڑیاں شامل ہیں۔

رواں ماہ میسوری کے علاقے فرگوسن میں ایک نہتے سیاہ فام لڑکے مائیکل براؤن کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت کے بعد مظاہرے ہوئے جس میں سیکورٹی فورسز کے بقول مظاہرین کی طرف سے پانی کی بوتلوں کے حملوں کے بعد کارروائی کی گئی۔

تصاویر اور وڈیو میں دکھائے گئے مناظر میں مظاہرین کی طرف بڑھتی بکتر بند گاڑیوں نے کئی امریکیوں اور قانون سازوں کو پریشان کردیا۔ رواں ماہ کے اوائل میں ایک سفید فام پولیس افسر نے براؤن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد تشدد کے واقعات شروع ہوئے۔

حکام کا کہنا تھا کہ صدر جاننا چاہتے ہیں کہ وفاق کی طرف سے ایسے سازوسامان کی منتقلی آیا درست ہے اور کیا مقامی پولیس کو اس سازوسامان کے استعمال کرنے کی صحیح تربیت دی گئی ہے۔

ان کے بقول یہ جائزہ کانگرس کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔

ستمبر 2001 کے دہشت گردی کے واقعات کے بعد ریاستی و مقامی پولیس کی اہلیت کو بڑھانے پر زور دیا گیا تھا۔

17 اگست کے اپنے بیان میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اس عسکری سازوسامان کی اصل میں ضرورت بھی ہے اور وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امریکی پولیس اور فوج کا مینڈیٹ کمزور نا ہو۔

XS
SM
MD
LG