رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: سینیٹ کمیٹی میں پاکستان کے لیے دفاعی معاونت کی منظوری


سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں جس میں سے 30 کروڑ ڈالر کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کیا گیا ہے۔

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے ایک مسودے کی منظوری دی ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت کی مد میں پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

یہ تجویز امریکہ کے سالانہ دفاعی بجٹ کے قانون نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ 2017 کے سینیٹ کے مسودے کا حصہ ہے جسے کمیٹی نے 18 مئی کو منظور کیا تھا مگر اس پر ابھی رائے شماری نہیں کی گئی۔

امریکہ کا ایوان نمائندگان نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ 2017 کے ایک اور مسودے کی منظوری پہلے ہی دے چکا ہے جس میں پاکستان کے لیے 90 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی، جس میں سے 45 کروڑ ڈالر کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں سے مشروط کیا گیا تھا۔

تاہم سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں جس میں سے 30 کروڑ ڈالر کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کیا گیا ہے جبکہ یہ معاونت حاصل کرنے کے لیے ایک اور شرط افغانستان میں امریکی فورسز کو سازوسامان کی ترسیل یا انخلا کے لیے پاکستان کے زمینی راستوں کا کھلا ضروی ہونا ہے۔

اس سے قبل پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اتحادی اعانتی فنڈ کے تحت 2013 سے اب تک پاکستان کو 3.1 ارب ڈالر دیے جا چکے ہیں۔ اس فنڈ کی معیاد رواں سال اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔

نئے دفاعی بجٹ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی معاونت تو جاری رکھی جائے گی مگر اس میں بتدریج کمی کی گئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ کی طرف سے پاکستان پر دباؤ بڑھایا گیا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔

حال ہی میں امریکہ کی کانگریس کے کچھ ارکان طرف سے تحفظات کے اظہار کے بعد امریکہ نے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے لیے امریکی فنڈ استعمال نہیں کر سکے گا۔

تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے کہا ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا جائے تو پھر وہ افغان طالبان اور دیگر گروہوں کو اتنی کھلی چھوٹ نہیں ملے گی۔

’’وجہ اس کی یہ ہے کہ کابل حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کابل حکومت انہیں قابو نہیں کر پا رہی اپنی کمزوری کی وجہ سے۔ امریکہ نے اس کا طریقہ یہ سوچا ہے کہ پاکستان پہ دباؤ ڈالا جائے تاکہ ان گروپس کو کنڑول کیا جا سکے۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اس سے پاکستان کے رویے کو تبدیل نہیں کر سکے گی اور اس سے دوطرفہ تعلقات پر اثر پڑے گا۔

ان کے بقول کسی ملک کی پالیسی کو اتنا کنٹرول کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

پاکستان کی حکومت بھی بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ وہ بلا تفریق تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

سینیٹ کے دفاعی بحٹ کے مسودے پر رائے شماری کے بعد دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے مسودوں کے موازنے اور مناسب ردوبدل کے بعد دیفنس آتھرائزیشن ایکٹ 2017 کا حتمی مسودہ صدر اوباما کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG