رسائی کے لنکس

logo-print

شٹ ڈاؤن، قرضہ جات: ڈیموکریٹ اور ری پبلکن سمجھوتے پر متفق


سمجھوتے کے نتیجے میں کاروبارِ حکومت 15جنوری تک جاری رہے گا اور امریکی سرکار کے قرض لینے کی حد اتنی بڑھادی جائے گی جس سے سات فروری تک نادہندگی کے خطرے سے بچا جاسکے گا۔

امریکہ میں کاروبارِ حکومت کی بحالی اور نادہندگی کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے نقصان دہ اثرات سے بچنے کے لیے سینیٹ کے رہنماؤں نے آخری لمحات میں ایک سمجھوتے پر اتفاق کرلیا ہے۔

سینیٹ میں اکثریتی پارٹی 'ڈیموکریٹس' کے قائد ہیری ریڈ اور اقلیتی جماعت 'ری پبلکن' کے سربراہ مِچ میکونیل نے بدھ کو واشنگٹن میں اس سمجھوتے کا اعلان کیا۔

ہیری ریڈ نے کہا کہ فریقین نے ملک کو ’مالی بحران‘ سے بچانے کے لیے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔

سمجھوتے کے نتیجے میں کاروبارِ حکومت 15جنوری تک جاری رہے گا اور امریکی سرکار کے قرض لینے کی حد اتنی بڑھادی جائے گی جس سے سات فروری تک نادہندگی کے خطرے سے بچا جاسکے گا۔

ریڈ اور میکو نیل کی جانب سے تجویز کردہ منصوبہ کانگریس کے دونوں ایوان بدھ کو ہی منظور کرلیں گے اور جمعرات کو صدر براک اوباما کے دستخط کے بعد یہ بِل قانون بن جائے گا۔

سینیٹ میں سمجھوتے پر بدھ کی شام ووٹنگ کی جا سکتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے ری پبلیکن اسپیکر جان بینر نے ارکان سے کہا ہے کہ وہ اِس اقدام کی منظوری دیں۔ اُن کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن کی جماعت دوطرفہ حمایت والے اِس سمجھوتے کو روکنے کا سبب نہیں بنے گی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے دونوں فریقوں کی طرف سے طے کردہ تجویز پر سینیٹ کے قائدین کو سراہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ صدر براک اوباما پُرامید ہیں کہ کانگریس کے دونوں ایوان اس قانون سازی کو فوری طور پر منظور کرلیں گے۔

خیال رہے کہ جمعرات، 17 اکتوبر قومی قرضہ جات کی ادائیگی کی حتمی تاریخ ہے جب نادہندہ ہونے سے بچنے کے لیے امریکی وزارتِ خزانہ کو واجب الادا بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کرنی ہے۔

نئے مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے امریکی حکومت بھی گزشتہ تین ہفتوں سے 'شٹ ڈاؤن' ہے جس کے دوران میں وفاقی انتظامیہ کے 22 لاکھ میں سے آٹھ لاکھ ملازمین بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ کئی سرکاری اداروں اور تفریحی مقامات میں کام بند ہے۔
XS
SM
MD
LG