رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کا قومی ایمرجنسی کا اعلان مسترد


فائل

امریکی کانگریس نے جمعرات کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی ہنگامی حالات کے اعلان کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا، جس میں سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقوم مختص کی گئی تھیں۔

سینیٹ میں اقدام کے خلاف 59 جب کہ اس کے حق میں 41 ووٹ پڑے، جس سے یہ انتظامی اقدام منظور نہ ہوسکا، جس سے چند ہی ہفتے قبل ایوان نمائندگان نے بھی اسی اقدام کو مسترد کیا تھا۔

ریپبلیکن پارٹی کے 12 ارکان نے سینیٹ میں متحد ڈیموکریٹک کاکس کا ساتھ دیا، جس کے نتیجے میں ریبپلیکن کی اکثریت والے اس ایوان میں یہ اقدام مسترد ہوا، جس سے وائٹ ہاؤس کی پالیسی کی مخالفت سامنے آئی اور صدر کی جانب سے ویٹو کی دھکمی نے بھی کام نہ کیا۔

نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے اقلیتی قائد، چک شومر نے کہا ہے کہ ’’یہ عام رائے دہی نہیں ہے۔۔ یہ عام رواجی دن نہیں ہے‘‘۔ اُنھوں نےکہا کہ پہلی بار نیشنل ایمرجنسی کے اعلان کو سرکاری طور پر مسترد کیا گیا ہے، جس جانب اُنھوں نے توجہ مبذول کرائی۔

ریاست مئین سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن پارٹی کی سینیٹر، سوزن کولنز نے کہا کہ وہ امریکہ میکسیکو سرحد کے ساتھ سیکورٹی کو ٹھوس بنانے کے صدر ٹرمپ کے ہدف کی حامی ہیں، لیکن کانگریس کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی حامی نہیں۔

اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ سینیٹ میں اکثریت صدر ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے پاس ہے، لیکن پارٹی کے کچھ ارکان نے صدر کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کے خلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اس سے سرکاری اقدام کی مخالف قرارداد کی منظوری تقریباً یقینی ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسی بارے میں آج اپنی ایک ٹویٹ میں عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے لکھا
آج سینیٹ میں بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم ووٹنگ ہونے والی ہے۔ اگر ضروری ہوا تو میں اسے ویٹو کرنے کو تیار ہوں۔ ملک کی جنوبی سرحد قومی سیکورٹی کا معاملہ ہے اور انسانی بحران ہے مگر اسے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے‘‘۔
کانگریس نے اب تک صدر کو دیوار کھڑی کرنے کے لیے فنڈز نہیں دیے۔ یہاں تک کہ اس وقت بھی ایسا کچھ نہیں ہوا جب صدر کے حکومتی دور کے پہلے دو سالوں میں ایوان میں ریپبلکنز کی اکثریت تھی۔ تاہم، اس سال کے آغاز پر ڈیموکریٹس کی اکثریت کے آنے کے بعد سیاسی طور پر منقسم کانگریس نے صدر ٹرمپ کو امریکہ میکسیکو سرحد پر جنگلا یا باڑ لگانے کے لیے محدود فنڈز ضرور مہیا کیے ہیں، جو صدر ٹرمپ کے مطابق ناکافی ہیں۔
امریکہ میں نیشنل ایمرجنسی ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے فیڈریل بجٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم، امریکی ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ امریکی سرحدوں پر تحفظ کی کمی پر کئی دہائیوں سے بحث کی جا رہی ہے، یہاں تک کہ جب صدر ٹرمپ نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

چند ریپبلکنز نیشنل ایمرجنسی ایکٹ میں ترمیم اس لیے چاہتے ہیں کہ آئندہ کوئی ڈیموکریٹ صدر کانگریس سے بچ نکلنے کے لیے اس کا استعمال نہ کر سکے۔
کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال اسی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’تصور کیجیئے اگر کل کوئی سوشلسٹ اییجنڈا رکھنے والا صدر عالمی حدت سے متعلق ایک نیا معاہدہ فنڈ کرنے کا ارادہ کر لے یا اسلحہ رکھنے کے آئینی حق کے خلاف ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’کانگریس کو بارڈر سیکورٹی کے معاملے پر فنڈز دینے ہی چاہیئں، اس کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ تاہم، کسی بھی صدر کو کانگریس کو بائی پاس نہیں کرنا چاہیئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG