رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور جنوبی کوریا کی نئی بحری مشقیں


امریکہ اور شمالی کوریا کی مشترکہ بحری مشقیں

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ بحری جنگی مشقوں کے ایک نئے سلسلے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی فوجی حکام اور جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے جمعہ کو بتایا ہے کہ یہ مشقیں چین کے مشرق میں ییلو سی یا زدر سمندر میں آئندہ ماہ کی جائیں گی اور یہ آبدوز شکن جنگی چالوں پر مرکوز ہوں گی۔ البتہ گذشتہ ہفتوں میں کی گئی مشقوں میں شامل امریکہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن نئی مشقوں کا حصہ نہیں بنے گا۔

چین نے اپنی سمندری حدود کے قریب ان مشترکہ بحری مشقوں کی مخالفت کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ کی جانے والی مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کو دفاعی صلاحیت کے حوالے سے پیغام دینا ہے اور ان کا چین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پیانگ یانگ نے کہا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ مشقیں شمالی کوریا کے خلاف مہم جوئی کی تیاری ہے۔

سیول اور پیانگ یانگ کے درمیان مارچ میں جنوبی کوریا کے ایک بحری جنگی جہاز ڈبونے کے بعد سے کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ اس حادثے میں 46 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ سیول اپنے جہاز کے ڈوبنے کا ذمہ دار شمالی کوریا کو ٹھہراتا ہے لیکن پیانگ یانگ اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG