رسائی کے لنکس

logo-print

شکیل آفریدی کیس: پاکستانی امداد میں مزید کٹوتی پر غور کی اطلاعات


شکیل آفریدی کو مئی 2011 میں ان اطلاعات کے بعد گرفتار کیا تھا کہ اُنھوں نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد موجودگی کی نشاندہی میں سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔

پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی خریداری کے لیے دی جانے والی امداد کو روکنے کی خبر کے چند دن بعد اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے امریکی کانگریس پاکستان کی امداد میں مزید کٹوتی پر غور کر رہی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مئی 2011 میں پاکستان میں ان اطلاعات کے بعد گرفتار کیا تھا کہ اُنھوں نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں موجودگی کی نشاندہی میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی فورسز کی کارروائی میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تاہم گرفتاری کے بعد انھیں کالعدم تنظیم’لشکر اسلام‘ کے ساتھ روابط کے الزام میں قبائلی علاقوں میں رائج قوانین کے تحت 33 سال قید کی سزا سنائی گئی جس میں بعد ازاں دس سال کی تخفیف کر دی گئی۔

ڈاکٹر شکیل کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے امریکی امداد میں مزید کٹوتی کی خبروں کے بارے میں تاحال پاکستان کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ماضی میں پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ شکیل آفریدی کا معاملہ عدالت میں ہے اور ان کی قسمت کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی۔

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن رانا افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان امریکہ کا ایک پرانا اتحادی رہا ہے اور اس طرح کے اقدامات سے اُن کے بقول کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔

’’پاکستان جیسے چھوٹے ملک کے ساتھ جو بہت سارے مسائل میں گھرا ہوا ہے ہر وقت بارگیننگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آپ کو یہ لینا ہے تو ہمیں یہ دے دو، یہی وجہ کہ یہاں پر امریکہ کے بہت سارے اچھے اقدامات ہونے کے باوجود عوام کے دلوں میں دوریاں ہیں تو پاکستان کی قوم ان چیزوں کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرتی۔‘‘

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں دو مئی 2011 کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے گھر پر امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کو پانچ سال ہو چکے ہیں اور ڈاکٹر شکیل آفریدی اب بھی پشاور جیل میں قید ہیں۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکلاء کی ٹیم میں شامل قمر نوید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی اپنے موکل سے کئی سالوں سے ملاقات نہیں ہوئی۔

’’ہمارا جو رابطہ ہوا تھا وہ 2012ء میں ہوا تھا اس کے بعد میرا، اس کے بھائی کا اور اس کی بہنوں کا ان سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہاں ان کی بیوی ہے اور ان کے بچے جو ہیں تقریباً مہینے کے بعد ایک مرتبہ ملاقات کر لیتے ہیں لیکن اتنا اندازہ ہمیں ہو جاتا ہے کہ وہ پشاور کی سینٹرل جیل میں ہے اور ٹھیک ٹھاک ہیں۔‘‘

بعض امریکی قانون ساز شکیل آفریدی کو اس بنا پر ہیرو قرار دیتے ہیں کہ انھوں نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کی شناخت میں مدد فراہم کی اور اسی وجہ سے وہ پاکستان سے شکیل آفریدی کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ادارے کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی "ہیرو" نہیں کیونکہ اُنھوں نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

XS
SM
MD
LG