رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 50 سال کی بلند ترین سطح پر


نیو یارک کا مین ہٹن کا علاقہ جہاں بے روزگاری الائونس کے حصول کے لیے لوگ قطار میں کھڑے ہیں۔

امریکہ میں تقریباً ایک عشرے کے بعد اس سال مارچ میں ملازمتوں کی فراہمی کی ریکارڈ بڑھوتی یک لخت رک گئی ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آجروں نے سات لاکھ ایک ہزار ملازمتیں ختم کر دیں، جس سے امریکی معیشت جمود کا شکار ہو گئی ہے۔

بے روزگاری کی شرح گزشتہ پچاس سال میں بڑھ کر چار اشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے بے روزگاری کی سب سے بلند شرح تین اشاریہ پانچ فیصد تھی۔

ملازمتوں کے ماہانہ نقصان کے اعداد و شمار حکومت نے جاری کئے ہیں، جو کہ سن 2009 کی کساد بازاری کے بعد بدترین ہیں۔ یہ اس بات کا دھیما سا اشارہ ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ گزشتہ ماہ ملازمتوں کی صورتحال اس سے بھی بدتر تھی، کیونکہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران سب سے بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ کیا گیا۔

مارچ کے آخری دو ہفتوں میں تقریبا ً دس ملین امریکیوں نے بے روزگاری الاؤنس کیلئے درخواستیں دائر کی ہیں۔ اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں بے روزگاری الاؤنس کیلئے درخواست گزاروں کا ریکارڈ نہیں ملتا۔

وائرس کی وجہ سے کاروباروں کی بندش ہوئی اور مجبوراً وسیع پیمانے پر برطرفیاں کی گئیں، جن میں ہوٹل، ریستوران، سینما گھر، موٹرساز کاخانے، انتظامی دفاتر اور ڈیپارٹمنٹل سٹور شامل ہیں۔ سن 1975ء کے بعد یہ فروری سے لیکر مارچ تک سب سے زیادہ برخواستگیاں ہیں۔

معیشت پر اثرات:

گزشتہ ایک عشرے کے دوران، امریکی معیشت میں بائیس اشاریہ اٹھائیس ملین ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔ اپریل میں ملازمتوں کی صورتحال کے بارے میں ماہِ مئی میں رپورٹ جاری کی جائے گی۔ ماہرین معیشت کو توقع ہے کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوگا کہ یہ تمام ملازمتیں ختم ہو گئیں۔

اندازاً صرف مارچ میں چار لاکھ انسٹھ ہزار، یعنی تقریبا دو تہائی ملازمتیں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور کسینو کے شعبوں سے ختم کی گئیں۔ پرچون فروشوں نے چھیالیس ہزار جب کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے اٹھارہ ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔
اس سال فروری میں ہی امریکی آجروں نے دو لاکھ تہتر ہزار ملازمتیں فراہم کی تھیں۔

چند ماہرین معیشت نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ ماہ کے دوران، بے روز گاری کی شرح 15 فیصد تک جا سکتی ہے۔ یہ شرح سن 1930ء کی عظیم کساد بازاری سے بھی بدتر ہوگی، جب بے روزگاری کی شرح دس فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

اس وقت امریکہ کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی کسی نہ کسی طرح کے شٹ ڈاؤن کی پابند ہے، یعنی گھروں میں رہنے کی پابندی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے بار، ریستوران، سینما گھر، فیکٹریاں، جم اور دیگر بہت سے کاروبار بند ہیں۔ چند ہوٹل بھی بند ہو گئے؛ جو کھلے ہیں وہ زیادہ تر خالی پڑے ہیں۔

فاسٹ فوڈ والے بھی یا تو بند ہو چکے ہیں یا پھر وہاں سے صرف کھانا لیا جا سکتا ہے، ٹھہرا نہیں جا سکتا۔ اسی لئے ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں کم ہوگئی ہیں۔
چونکہ کاروباری سرگرمیاں بلکل محدود ہو کر رہ گئی ہیں اس لئے تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ بدترین کسادبازاری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

گولڈمین شیس سے منسلک ماہرین معیشت نے پیش گوئی کی ہے کہ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں معیشت 34 فیصد کی سالانہ شرح سے سکڑ سکتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ بدترین معاشی گراوٹ ہو گی۔ گولڈ مین کو توقع ہے کہ تیسری سہ ماہی کے دوران معیشت کی شرح انیس فیصد ہوگی۔ تاہم، آئندہ سال تک معیشت اس نقصان سے پوری طرح سنبھل نہیں پائے گی۔

معیشت کےمستقبل کا تعین کرنے میں اہم عنصر یہ ہے آیا کاروبار اس شٹ ڈاؤن کا بوجھ برداشت کر سکیں گے، اور اپنے برخواست کئے گئے زیادہ تر ملازمین کو دوبارہ ملازمت فراہم کر سکیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو پھر معیشت دوبارہ واپس کھڑی ہو سکتی ہے، او رگزشتہ تین بار کی طرح اس کی بحالی اتنی سست نہیں ہو گی۔
ابھی تک تو کچھ بڑے اورچھوٹے کاروبار، اپنے ملازمین کو دی گئی ہیلتھ کیئر مراعت کیلئے ادائیگی کر رہے ہیں، اور اپنے برطرف کئے گئے ملازمین سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم، اگر وائرس سے پھیلنے والی وبا کی وجہ سے یہی کاروبار موسم گرما کے اواخر تک بند رہے، تو بہت سے دیوالیہ ہو جائیں گے یا پھر ان کے پاس اپنے پرانے ملازمین کو دوبارہ بھرتی کرنے کیلئے رقم نہیں ہو گی۔

ان وجوہات کی بنا پر بے روزگاری کی شرح بلند رہے گی جس سے ملازمین کو ممکنہ طور پر اپنی اجرت نہیں مل پائے گی اور معاشی بحالی کی رفتار سست رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG