رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے فوج کا انخلا ملتوی کر دینا چاہیے، کانگریس میں رپورٹ پیش


فائل فوٹو

امریکہ کی کانگریس میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کو افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کو نکالنے کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دینی چاہیے اور بین الافغان امن مذاکرات میں پیش رفت کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

افغان امور سے متعلق کانگریس کی ایک کمیٹی نے بدھ کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کو افغان امن عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے عائد کردہ شرائط یکم مئی تک پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد وہاں خانہ جنگی کا خدشہ ہے جس سے خطے کا استحکام متاثر ہونے کا خطرہ ہے اور القاعدہ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان نے افغانستان میں جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ برس ایک مشروط امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت امریکہ کو 2021 کے وسط تک اپنے تمام فوجیوں کو افغانستان سے نکالنا تھا جب کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اس دوران غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو افغانستان میں مضبوط نہیں ہونے دیں گے۔

طالبان کی جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ فوج کے انخلا کی یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد غیر ملکی افواج پر حملے شروع کر دیں گے۔

افغان امور سے متعلق کانگریس کے کمیشن میں سابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف چیئرمین جنرل (ر) جوزف ڈنفورڈ اور سابق ری پبلکن سینیٹر کیلی آیوٹ شامل تھیں۔ کمیشن نے کانگریس میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ امریکہ کو افغان جنگ میں کامیابی طالبان کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے۔

جنرل (ر) ڈنفورڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ رپورٹ صدر جو بائیڈن کے مشیروں کے علاوہ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد سے بھی شیئر کی گئی تھی اور انہوں نے اسے مددگار قرار دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا افغان امن عمل کی حمایت کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ طالبان تشدد میں کمی، القاعدہ کے ساتھ تعلقات کو منقطع کرنے کے علاوہ امن مذاکرات کا حصہ بنیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کو 2500 تک کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اسی اثنا میں امریکی حکام کی جانب سے بارہا الزامات عائد کیے گئے کہ طالبان ایک مرتبہ پھر القاعدہ کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ تاہم طالبان کا مؤقف تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی بھی جنگجو موجود نہیں اور وہ یکم مئی کے بعد ملک میں غیر ملکی افواج کو نشانہ بنائیں گے۔

امریکی کانگریس میں پیش کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان دوحہ میں جاری مذاکرات کے فیصلہ کن نتائج کو یقینی بنایا جائے۔

افغان امور کے تجزیہ کار اور صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ دوحہ معاہدے کے تحت غیر ملکی فورسز کا انخلا ہونا چاہیے۔ لہذٰا وہ شاید ڈیڈ لائن میں توسیع پر تیار نہ ہوں۔

ان کے بقول طالبان کا مؤقف ہے کہ دوحہ معاہدے پر عمل ہونا چاہیے جس کے تحت مئی 2021 تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فورسز کا انخلا مکمل ہو جانا چاہیے۔

رحیم اللہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ مشرو ط ہے۔ ان کے بقول طالبان کو اس معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے ہیں پھر ہی غیرملکی فورسز کے انخلا کا عمل مکمل ہو گا۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کی نئی انتظامیہ دوحہ معاہدے پر نظرِثانی کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ وہ مکمل انخلا نہیں کریں گے یا واشنگٹن کی طرف سے نئی شرائط عائد کی جاتی ہیں تو طالبان کی طرف سے بھی کوئی نئی شرائط یا مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔

رحیم اللہ کے بقول افغان تنازع کے تین اہم فریق امریکہ، افغان حکومت اور طالبان کے مابین اتفاقِ رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہے۔

دوسری طرف بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغان امن عمل میں کسی پیش رفت کا نہ ہونا اور تشدد کے واقعات میں اضافے پر امریکہ کی نئی انتطامیہ کو تشویش ہے۔ اسی لیے ان کے بقول امریکی انتظامیہ کی طرف سے دوحہ معاہدے پر نظرِثانی کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

لیکن ان کے بقول اس بات کا امکان کم ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ دوحہ معاہدے کے بنیادی نکات سے پیچھے ہٹ جائے گی۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس وقت واشنگٹن کے زیر غور یہ بات ہو گی کہ افغانستان میں باقی ماندہ فوج کا انخلا کب کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG