رسائی کے لنکس

امریکہ کی جانب سے دوحہ معاہدے پر نظرِ ثانی کا عندیہ، افغان رہنماؤں کا خیر مقدم


امریکہ اور طالبان گزشتہ سال 29 فروری کو امن معاہدے پر متفق ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے اعلان کا کئی افغان رہنماؤں نے خیر مقدم کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب سے جمعے کو گفتگو کے دوران کہا تھا کہ امریکہ، طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا دوبارہ جائزہ لے گا۔

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہارن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ آیا طالبان نے معاہدے کے دوران کرائی جانے والی یقین دہانیوں پر عمل کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں سے روابط ختم کیے ہیں یا نہیں۔"

بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ طالبان تشدد کم کرنے اور افغان حکومت اور دیگر دھڑوں کے ساتھ ٹھوس مذاکرات میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

ایملی ہارن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں قیامِ امن کے ہر عمل کی حمایت کرے گا جس کے لیے وہ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے گا۔ تاکہ فریقین اتفاق رائے سے کسی سیاسی تصفیے تک پہنچ سکیں۔

بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون (فائل فوٹو)
بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون (فائل فوٹو)

بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے امن عبداللہ خانجانی نے کہا کہ معاہدے پر نظرِ ثانی کا حاصل جنگ اور تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

ہفتے کو ایک بیان میں عبداللہ خانجانی نے کہا کہ "امریکی جائزے کے بعد افغانستان میں تشدد کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے اہداف حاصل ہونے چاہئیں۔"

افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی نے بھی ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان امن معاہدے پر عمل درآمد سے گریز کرتے ہوئے تشدد کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اپنی ٹوئٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ "امن معاہدے کے بعد اب تک وہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے جس کے لیے یہ معاہدہ ہوا تھا۔ کیوں کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔"

طالبان کا ردِعمل

امریکہ کی جانب سے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے عندیے پر ردِعمل دیتے ہوئے طالبان نے کہا کہ وہ امن معاہدے پر پوری طرح کاربند ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے بتایا کہ وہ دوسرے فریق سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ معاہدے پر قائم رہے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دارالحکومت کابل سمیت ملک کے مختلف حصوں میں گھات لگا کر سرکاری افسران، ججز، ڈاکٹرز، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد کو قتل کیے جانے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

ان واقعات کے الزامات طالبان پر لگتے رہے ہیں۔ تاہم طالبان اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔

چند روز قبل افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے بھی طالبان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر تنقید کی تھی۔ امراللہ صالح نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت رہائی پا کر دوبارہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والے طالبان جنگجوؤں کو پھانسی دینا ہی مسئلے کا حل ہے۔

طالبان کے ساتھ امریکہ کا امن معاہدہ کیا تھا؟

امریکہ اور طالبان نے گزشتہ سال 29 فروری کو مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد امن معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے کے تحت امریکہ نے افغان جیلوں میں قید طالبان جنگجوؤں کی رہائی سمیت مئی 2021 تک افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوج کے مکمل انخلا پر اتفاق کیا تھا۔

طالبان نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغان سرزمین کو امریکہ یا اس کے اتحادی ملکوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طالبان نے یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ القاعدہ سمیت افغانستان میں دیگر دہشت گرد گروپوں سے روابط بھی نہیں رکھیں گے۔

ابتداً افغان حکومت نے اس معاہدے خصوصاً سنگین جرائم میں ملوث طالبان قیدیوں کی رہائی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن امریکہ کی مداخلت کے بعد طالبان جنگجوؤں کا رہا کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG