رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی فوجی افغان شہریوں کے قتل کا اعتراف کرلے گا: وکلا


ہلاک ہونے والے افغانوں کے لواحقین نے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ اگر رابرٹ کو موت کی سزا نا سنائی گئی تو وہ اس کا بدلہ لیں گے۔

افغانستان میں گزشتہ سال 16 شہریوں کو دانستہ طور پر ہلاک کرنے کے ملزم امریکی سارجنٹ کے وکلاء نے کہا ہے کہ اُن کے موکل موت کی سزا سے بچنے کے لیے اعتراف جرم کر لیں گے۔

سارجنٹ رابرٹ بیلز کے وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل پانچ جون کو واشنگٹن میں فوجی عدالت میں آئندہ پیشی سے قبل اعتراف جرم کر لیں گے۔

رابرٹ بیلز کو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

استغاثہ کے وکلاء کے مطابق ملزم نے مارچ 2012ء میں جنوبی افغانستان میں اپنی چوکی سے نکلنے کے بعد قریبی دو دیہاتوں میں فائرنگ اور چھرا گھونپ کر 16 افراد کو ہلاک کیا جن میں سے نو بچے تھے۔

فوج کے مطابق سارجنٹ کی یہ کارروائی اُس بم حملے کے ردعمل میں کی گئی جس میں ایک دوسرا فوجی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

رابرٹ بیلز کے وکیل کے مطابق اُن کا موکل افغانستان میں تعینات کے دوران ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔

ہلاک ہونے والے افغانوں کے لواحقین نے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ اگر رابرٹ کو موت کی سزا نا سنائی گئی تو وہ اس کا بدلہ لیں گے۔

امریکہ میں فوج نے 1961 کے بعد سے کسی امریکی فوجی کو سزا موت نہیں دی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG