رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور صومالیہ کے درمیان تعلقات کے نئے دور کی شروعات


امریکہ نے 1993 میں صومالیہ سے اس وقت اپنے سفارتی عملے اور فورسز کو نکال لیا تھا جب عسکریت پسندوں نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مارگرایا تھا۔

امریکہ نے 25 سال بعد صومالیہ میں اپنا سفیر تعینیات کیا ہے۔ صومالیہ کے لیے نئے سفیر اسٹیفن شوارٹز نے پیر کو واشنگٹن میں اپنے عہدے کا حلف لیا۔

گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی طرف سے اسٹیفن شوارٹز کی صومالیہ میں بطور سفیر نامزدگی کی توثیق کی گئی تھی۔

شوارٹز وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر ہیں اور وہ زمبیا میں بطور نائب ناظم الامور کام کر چکے ہیں۔

وہ جیمز بشپ کی جگہ بطور سفیر کام کریں گے جو دو دہائی قبل اس وقت صومالیہ سے چلے گئے تھے جب امریکی سفارت خانے کی سکیورٹی کو خطرہ تھا۔

امریکہ نے 1993 میں صومالیہ سے اس وقت اپنے سفارتی عملے اور فورسز کو نکال لیا تھا جب عسکریت پسندوں نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مارگرایا تھا۔ اس واقعہ میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

صومالیہ میں اُس وقت شدت پسند گروپ الشباب منظر عام پر آیا تھا۔

حالیہ برسوں میں الشباب کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے سبب اگرچہ اس تنظیم کے جنگجوؤں کو ملک کے شہروں سے باہر دھکیل دیا گیا ہے لیکن اب بھی الشباب ملک کے مختلف علاقوں میں حملے کرتی رہتی ہے۔

امریکہ کے نائب معاون وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے سفیر شوارٹز سے حلف لیا۔

شوارٹز نے کہا کہ ’’صومالیہ کے حکام کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ ایک موثر اور ذمہ دار قومی فوج تیار کریں جو الشباب کو شکست دے سکے اور ملک کو متحد کر سکے‘‘۔

سیفیر اسٹیفن شوارٹز کی تعیناتی امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کی طرف سے موغادیشو کے غیر اعلانیہ دورے کے ایک سال بعد ہوئی ہے۔

گزشتہ سالوں کے دوران امریکہ نے خشک سالی، بحری قزاقی اور الشباب کی پرتشدد سرگرمی سے نمٹنے کے لیے صومالیہ کو لاکھوں ڈالر کی معاونت بھی فراہم کی ہے۔

XS
SM
MD
LG