رسائی کے لنکس

جنوبی بحیرۂ چین کا تنازع، کاملا ہیرس کا چین پر عالمی دباؤ بڑھانے پر زور


امریکی نائب صدر کاملا ہیرس ویت نام کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران (اے پی)
امریکی نائب صدر کاملا ہیرس ویت نام کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران (اے پی)

امریکہ کی نائب صدر کاملا ہیرس نے اپنے ویت نام کے دورے میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو جنوبی بحیرہ چین پر وسیع علاقائی دعوؤں کے معاملے پر بیجنگ پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

نائب صدر نے یہ بات جنوب مشرقی ممالک کے دورے کے دوران ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں وہاں کے صدر نیون شوان فک سے ملاقات سے قبل کہی۔

کاملا ہیرس نے کہا کہ "ہمیں راہیں تلاش کرنا ہوں گی کہ ہم بیجنگ پر دباؤ بڑھائیں کہ اس کو اقوام متحدہ کے سمندروں سے متعلق قانون، لا آف دی سی پر کاربند ہونا چاہیے۔ اور ہمیں چین کے دھونس جمانے کے رویے اور آبی وسائل کی نوعیت کے بڑے دعوؤں کو چیلنج کرنا چاہیے۔"

ہیرس کے چین کے دھونس جمانے کے بیان سے مراد ان کی طرف سے سنگاپور میں لگائے گئے وہ الزامات ہیں، جن کے مطابق چین بحیرہ جنوبی چین پر ملکیت کے بڑے دعوے کرتے ہوئے خطے کے ممالک کو ڈراتا دھمکاتا ہے۔

کاملا ہیرس نے چین کی طرف سے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ خطے میں سمندری راستوں سے آزادانہ تجارت کی ضرورت کا بھی حوالہ دیا۔

خیال رہے کہ بیجنگ نے حال ہی میں خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور کئی مصنوعی جزیروں پر اپنی چوکیاں قائم کر دی ہیں۔ چین نے ویت نام اور دوسرے ممالک کا جنوبی بحیرہ چین پر علاقائی دعوؤں کے باوجود کہا ہے کہ جزیرے اس کی ملکیت ہیں۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیا ہے۔

دورے کے دوران نائب صدر ہیرس نے اعلان کیا کہ امریکہ ویت نام کو کرونا کی عالمی وبا سے نمٹنے کے ضمن میں ویکسین کی مزید دس لاکھ خوراکیں مہیا کرے گا۔

ویت نام کے ایک ساحلی علاقے کے قریب سمندر میں چینی ماہی گیروں کی کشتیاں نظر آ رہی ہیں۔ فائل فوٹو
ویت نام کے ایک ساحلی علاقے کے قریب سمندر میں چینی ماہی گیروں کی کشتیاں نظر آ رہی ہیں۔ فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ امریکہ امراض پر قابو پانے کے اپنے ادارے "سنٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن" کی ایک علاقائی شاخ ہنوئی میں قائم کرے گا۔

یاد رہے کہ ہیرس امریکی نائب صدر کے عہدے پر فائز پہلی شخصیت ہیں، جنہوں نے ویت نام کا دورہ کیا ہے۔

اس سے قبل ہنوئی میں امریکی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ہیرس کی سنگاپور سے ویت نام آمد کو صحت کے ایک واقعہ کی رپورٹ کی بنا پر تاخیر کا سامنا رہا۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے غیر صحت مند واقعات کا ذکر کرنے سے مراد ایک بیماری ہے جسے 'ہوانا سنڈروم' کہتے ہیں اور جس نے درجنوں امریکی سفارت کاروں کو متاثر کیا ہے۔

[اس رپورٹ میں بعض معلومات خبر رساں اداروں اے پی، رائٹرز اور اے ایف پی کی رپورٹس سے لی گئی ہے]

XS
SM
MD
LG