رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کی دھمکیوں کے تناظر میں مون، ٹرمپ ملاقات


فائل فوٹو

جنوبی کوریا کے صدر مون جئی اِن وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے جو کہ ایک ایسے وقت ہونے جا رہی ہے جب ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے مابین طے شدہ ملاقات کے امکانات پر شکوک وشبہات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

توقع ہے کہ منگل کو صدر مون، ٹرمپ سے ملاقات میں انھیں اس بات کی یقین دہانی کروائیں گے کہ شمالی کوریا سے امریکی صدر کی بات چیت ایک تاریخی پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں اور غیر ملکی رہنماوں سے یہ مشاورت کرتے آ رہے ہیں کہ آیا انھیں کم سے ملاقات کرنی چاہیے یا نہیں۔

واشنگٹن میں بعض حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جنوبی کوریا کے حکام پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ابتدائی طور پر شمالی کوریا کے رہنما کی ٹرمپ سے ملاقات اور جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کی آمادگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

ادھر نائب امریکی صدر مائیک پینس نے 'فوکس نیوز' کو بتایا ہے کہ ٹرمپ اب بھی شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کے منصوبے سے علیحدہ ہو سکتے ہیں اور ان کے بقول امریکی انتظامیہ کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔

پینس نے کہا کہ "ہم نے شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کرنے کے عزم کے عوض رعائتیں دیں۔۔۔کم جونگ اُن کی یہ بہت بڑی غلطی ہو گی کہ اگر وہ یہ سمجھیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کوئی کھیل کھیل سکتے ہیں۔"

صدر ٹرمپ اور کم کے درمیان ملاقات 12 جون کو سنگاپور میں طے ہے، لیکن حال ہی میں شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس ملاقات کو مسترد کر سکتا ہے جس کی وجہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی تازہ مشترکہ فوجی مشقوں پر اس کی برہمی ہے۔

مائیک پینس کا مزید کہنا تھا کہ "میرا نہیں خیال کہ صدر ٹرمپ کسی تعلقات عامہ کے بارے میں سوچ رہے ہیں، وہ امن کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG