رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ پاکستان کی خودمختاری کو ملحوظ خاطر رکھے: پاکستانی وزیر داخلہ


نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے کہا کہ کچھ مسائل اور مشکلات کے باوجود امریکی حکومت پاکستان سے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اسے مزید وسعت دینے کی خواہاں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے جمعرات کو پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ اُمور سمیت علاقائی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔

پاکستانی وزارت داخلہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے آٹھ ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے امریکہ کی طرف سے پاکستان کی امداد روکنے کے معاملے پر حکومت کے تحفظات سے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن کو آگاہ کیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے لیے فنڈنگ روکے جانے کے باوجود پاکستان چاہتا ہے کہ تمام دوطرفہ معاملات بات چیت کے ذریعے طے کیے جائیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے اپنے ہمہ جہت تعلقات میں مزید وسعت چاہتا ہے، لیکن اُن کے بقول اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے نقطہء نظر اور اس کی خودمختاری کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

بیان کے مطابق رچرڈ اولسن نے کہا کہ کچھ مسائل اور مشکلات کے باوجود امریکی حکومت پاکستان سے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اسے مزید وسعت دینے کی خواہاں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن اور اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی جس میں دیگر معاملات کے علاوہ پاک امریکہ مشترکہ بزنس کانفرنس سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ کانفرنس تین جون کو نیویارک میں ہونے جا رہی ہے۔

اُدھر اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کی طرف سے پاکستان کے لیے امداد کو مشروط کیے جانے کے اقدام پر متنبہ کیا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

کانگریس کو بھیجے گئے ایک پالیسی بیان میں وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ وہ (دہشت گرد گروپ) حقانی نیٹ ورک کے بارے میں قانون سازوں کی تشویش کو سراہتا ہے، لیکن وہ امداد پر قدغن کے اقدام سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ یہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت کو"غیر ضروری طور پر پیچیدہ" کرے گا۔

رواں ماہ کے اوائل میں امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے مطابق پاکستان کے لیے 45 کروڑ ڈالر کی فراہمی اس یقین دہانی سے مشروط کی گئی تھی کہ یہ ملک حقانی نیٹ ورک کے خلاف تسلی بخش کارروائی کر رہا ہے۔

ایوان نمائندگان کے اراکین کی طرف سے اس مسودہ قانون پر رائے شماری رواں ہفتے متوقع ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ (اوباما) انتظامیہ اس بل کی شق 1212 پر معترض ہے جس میں اتحادی اعانتی فنڈ کے 45 کروڑ ڈالر کو وزیر دفاع کی طرف سے کانگریس کی دفاعی کمیٹی میں (پاکستان کی حقانی نیٹ ورک سے متعلق کارروائیوں) کی سند سے مشروط کیا گیا ہے۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس بھی امریکی فورسز اور افغانستان میں مفادات کے لیے حقانی نیٹ ورک سے درپیش خطرے کے بارے میں کمیٹی جیسے تحفظات رکھتا ہے، "اور ہم خاص طور پر اس گروپ کے خلاف اجتماعی ایکشن کی ضرورت کے بارے میں پاکستان سے اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق 1212 سیکشن میں لگائی گئی قدغن "اس بارے میں باہمی تعلقات میں پیش رفت کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ کرنے کے علاوہ امریکی قومی سلامتی کے مفاد کے مطابق وزیردفاع کی استعداد کار کو بھی محدود کر دے گی۔"

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن رانا محمد افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی حکومت کی طرف سے کانگریس کو یہ کہنا کہ وہ پاکستان کے لیے روکی جانے والے امداد پر غور کرے، ایک خوش آئند اقدام ہے۔

’’یہ اچھی پیش رفت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ زمینی حقائق کے مطابق ہے۔۔۔۔ ابھی بھی ہم امریکہ سے تعاون کر رہے ہیں ہم تو امریکہ سے طویل المدت شراکت داری پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

اُنھوں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

’’ہمیں ایک دوسرے کے سلامتی کے تحفظات کا خیال رکھنا چاہیئے۔۔۔۔۔ تو پاکستان کی قوم بڑی حساس ہے ان معاملات میں۔ ہمارے تعلقات خراب ہوں گے اگر امریکہ نے امداد روکی۔‘‘

حال ہی میں امریکی کانگریس کے ارکان کے اعتراضات کے بعد امریکہ نے پاکستان کو آٹھ ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فراہمی یہ کہہ کر روک دی تھی کہ وہ اس ضمن میں 40 کروڑ ڈالر سے زائد کا زراعانت فراہم نہیں کرے گا اور پاکستان کو ان طیاروں کی تمام قیمت خود ہی ادا کرنا ہوگی۔

اس اقدام کو پاکستان کے قانون سازوں کی طرف سے بھی دو طرفہ تعلقات کے لیے مضر قرار دیا گیا لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکہ سے بات چیت جاری رکھتے ہوئے حل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔

XS
SM
MD
LG