رسائی کے لنکس

تحقیقی ماہرین دوما میں نہیں ہیں: امریکی محکمہ خارجہ کا دعویٰ


دوما میں میزائل کے ایک ٹکڑا پڑا ہے

شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی جانچ کرنے والے بین الاقوامی ماہرین کی موجودگی کے بارے میں مبہم صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی اور غیر سرکاری امدادی تنظیم 'وائٹ ہیلمٹ' کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ 'آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز' کے ماہرین کی ٹیم دوما پہنچ چکی ہے۔

لیکن امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے منگل کو ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ ہیتھر نیورٹ کا کہنا تھا کہ "ہمارے خیال میں یہ ٹیم دوما میں داخل نہیں ہوئی ہے۔"

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار جعفری نے منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں بتایا کہ ماہرین کی ٹیم دوما میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت نے تحقیقاتی مشن کی آمد کے لیے تمام ضروری اقدام کیے ہیں۔

"آج (منگل کو) اقوام متحدہ کی سکیورٹی ٹیم دمشق کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے دوما میں داخل ہوئی تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے سکے۔ اگر سکیورٹی ٹیم فیصلہ کرتی ہے کہ دوما میں صورتحال محفوظ ہے تو پھر حقائق جانچنے والا مشن کل سے دوما میں کام شروع کر دے گا۔"

جعفری کے بقول حقائق جانچنے والی ٹیم کی آمد کا فیصلہ کلی طور پر اقوام متحدہ اور 'او پی سی ڈبلیو' پر ہے اور شامی حکومت صرف انھیں سہولت فراہم کرسکتی ہے۔

تنظیم کے ماہرین ہفتہ کو شام پہنچے تھے اور اسی روز امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

دوما میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے دس روز بعد فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ "اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ شواہد اور بنیادی جزیات اس مقام سے ہٹا دی گئی ہوں۔"

کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کی تنظیم میں امریکہ سفیر کین وارڈ نے پیر کو کہا تھا کہ روسی پہلے ہی اس مقام کا دورہ کر چکے ہیں اور "ہو سکتا ہے کہ انھوں نے شواہد مسخ کر دیے ہوں۔" لیکن ماسکو نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG