رسائی کے لنکس

logo-print

ترک سرزمین سےداعش کے خلاف پہلی امریکی فضائی کارروائی


پینٹاگان نے بتایا ہے کہ ترکی کی جانب سے سرحد پار یہ پہلا حملہ بدھ کے روز بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کی مدد سے کیا گیا۔ اِسی روز امریکی ڈرونز اور دیگر لڑاکا طیارے جنوبی ترکی میں واقع ایک فضائی اڈے پر اترنا شروع ہوئے

پینٹاگان نے کہا ہے کہ ترکی میں تعینات امریکی افواج نے شام میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف اپنی پہلی فضائی کارروائی کی ہے۔

امریکی فوجی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ ترکی کی جانب سے سرحد پار یہ پہلا حملہ بدھ کے روز بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کی مدد سے کیا گیا۔ اِسی روز امریکی ڈرونز اور دیگر لڑاکا طیارے جنوبی ترکی میں واقع ایک فضائی اڈے پر اترنا شروع ہوئے۔

ترکی کی سرحد کے قریب شام میں واقع ایک علاقے کے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے گڑھ کا صفایا کرنے کے لیے، ترکی اور امریکہ ایک مشترکہ فوجی اقدام کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ، مولوت کوسوگلو نے اس مشترکہ کارروائی کا اعلان کرنے ہوئے بتایا کہ اِس میں داعش کے انتہا پسندوں کے خلاف ’ایک وسیع تر لڑائی‘ شامہ ہوگی، جس اقدام کی مدد سے شام کی خانہ جنگی میں ملوث اعتدال پسند مخالفین افواج کو داعش سے لاحق خطرات میں کمی آ جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور کوسوگلونے بدھ کے روز کوالا لمپور میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران شام کے گرد و نواح کی صورت حال پر گفت و شنید کی، جہاں دونوں فریقین ایشیا کے علاقائی سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
کیری نے اپنے روسی ہم منصب، سرگئی لاوروف نے بھی کیری سے ملاقات کی، جن کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ دولت اسلامیہ خطے میں سب کے لیے ’ایک مشترکہ خطرے‘ کا باعث ہے۔

تاہم، لاوروف نے بتایا کہ داعش کے ساتھ لڑائی میں کوئی مشترکہ کوشش نہیں کی گئی، کیونکہ، بقول اُن کے، شام میں مختلف افواج کے درمیان تعطل کی صورت حال ہے، جس میں باغی دھڑے بھی شامل ہیں۔

لاوروف اور کیری نے اس بات سے اتفاق کیا کہ داعش سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں امریکہ اور روسی حکام اپنے رابطے جاری رکھیں گے۔

روس شامی صدر بشار الاسد کا حامی ہے اور دولت اسلامیہ کے خلاف علاقائی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ امریکہ اعتدال پسند شامی باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG