رسائی کے لنکس

logo-print

فوکس ویگن کو ’جعلی سافٹ ویئر‘ پر دیوانی مقدمے کا سامنا


امریکی محکمہ انصاف کے طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس شکایت کو " فوکس ویگن کو سزا وار ٹھہرانے کی طرف پہلا مرحلہ " قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ کے محکمہ انصاف نے کاریں بنانے والی ایک معروف کمپنی فوکس ویگن کے خلاف چھ لاکھ گاڑیوں میں مینہ طور پر غیر قانونی سافٹ وئیر نصب کرنے پر دیوانی مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس سافٹ وئیر کا مقصد ڈیزل انجن سے اخراج کو وفاقی معیار کے مطابق بتانا ہے۔

محکمہ انصاف کے طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس شکایت کو " فوکس ویگن کو سزا وار ٹھہرانے کی طرف پہلا مرحلہ " قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میں اس کی طرف سے کہا گیا کہ یہ اس آلے کے بارے میں بتانے میں ناکام ہوئی جسے آلودگی کے اخراج کے متعلق دھوکا دینے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔

بیان میں دیوانی مقدمے کو حتمی طور پر جرمانے کا تعین کرنے کی طرف پیش رفت قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ گاڑیوں کی کمپنی کے خلاف فوج داری الزامات کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا ہے۔

فوکس ویگن نے اس مقدمے سے متعلق کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے جو حتمی طور اسے اربوں ڈالر جرمانا ادا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

کمپنی نے پہلی بار گزشتہ سال ستمبر میں تسلیم کیا کہ اس کی ڈیزل کاروں اور دیگر میں 'دھوکا دینے والا' یعنی چیٹ سافٹ وئیر شامل ہے جو 2009ء والے ماڈل کے بعد والی گاڑیوں میں شامل تھا۔ فوکس ویگن آ ج کل متعلقہ امریکی نگران ادارے کے ساتھ بڑے پیمانے پر گاڑیوں کی لازمی واپسی کے بارے میں بات چیت کر رہی ہے۔

تفتیش کاروں نے کہا کہ یہ سافٹ وئیر اس وقت کام کرتا ہے جب (آلودگی کے اخراج کا) ٹیسٹ کیا جاتا اور اس کے تحت ٹیسٹ کرنے والے حکام کو دھوکا دینے کے لیے جعلی اخراج شروع کر دیتا ہے۔ اس تفتیش میں یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہی گاڑیاں سڑکوں پر چلتے ہوئے آلودگی کے اخراج کی جائز حد سے 40 گنا زیادہ اخراج کرتی تھیں۔

اس کے علاوہ فوکس ویگن کو ان ڈیزل گاڑیوں کے مالکان عام شہریوں کی طرف سے متعدد مقدمات کا سامنا ہے جو اپنی گاڑیوں کی دوبارہ فروخت کی قیمت میں کمی پر معاوضہ طلب کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG