رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرانس جینڈر افراد کی فوج میں بھرتی، سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے حق میں فیصلہ


واشنگٹن میں امریکی سپریم کورٹ کی عمارت۔ فائل فوٹو

امریکی سپریم کورٹ نے منگل کے روز جاری کئے گئے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اس بات کا پورا حق حاصل ہےکہوہ امریکی افواج میں ٹرانس جینڈر افراد کی بھرتی کو محدود کر سکیں۔

اس سے قبل ایک ذیلی عدالت نے صدر ٹرمپ کی طرف سے فوج میں ٹرانس جینڈر افراد کی بھرتی روکنے کی پالیسی مسترد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے محکمہ دفاع کو اس بات کا حق حاصل ہو گیا ہے کہ جنس کی تبدیلی کے عمل سے گزرنے والے افراد کی فوج میں بھرتی پرپابندی عائد کر سکے۔

اس فیصلے سے محکمہ دفاع کو یہ اجازت بھی حاصل ہو گئی ہے کہ وہ امریکی افواج میں کام کرنے والےفوجیوں اور دیگر اہلکاروں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ صرف اپنی قدرتی جنس کے حوالے سے خدمات انجام دیں۔

اس سے قبل سابق صدر اوباما کی انتظامیہ نے فوج میں بھرتی ہونے اور وہاں آزادی سے خدمات انجام دینے کیلئے ٹرانس جینڈر افراد پر پابندی ختم کر دی تھی۔

محکمہ دفاع نے آج بدھ کے روز کہا کہ وہ اس وقت ذیلی عدالت کے اُس فیصلے پر عمل درآمد جاری رکھے گا جس کے تحت ٹرانس جینڈر افراد کو فوج میں بھرتی ہونے اور خدمات انجام دینے سے متعلق اوباما انتظامیہ کے فیصلے پر عمل جاری رکھا جائے۔

محکمہ دفاع نے مزید کہا کہ وہ امریکی محکمہ انصاف سے مشورہ کرے گا کہ اگلا قانونی اقدام کیا اُٹھایا جا سکتا ہے اور ہم اپنے مؤقف کو عدالتوں میں کیسے پیش کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ اس بارے میں ضابطوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار یہ کوشش بھی کرتے رہے ہیں کہ عدالتیں ٹرانس جینڈر افراد کے بارے میں پالیسی سے متعلق کیسز فوری طور پر سنے۔ تاہم ججوں نے ایسا کرنے سے فی الحال اجتناب کیا ہے۔

صدر ٹرمپ اس بات کے خواہاں تھےکہ ٹرانس جینڈر افراد کی فوج میں بھرتی کو اُن افراد تک محدود رکھا جائے جو اپنی جنس تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

شہری حقوق اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق سے متعلق تنظیموں نے 2017 میں ان پابندیوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ فوج میں ٹرانس جینڈر افراد کو رکھنے سے طبی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت سے دیگر مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جن کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پہلے وفاقی عدالتوں کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس نئی پالیسی کے ذریعے تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر حاصل وہ حقوق متاثر ہوتے ہیں جو امریکی آئین اُنہیں عطا کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG